الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے ہفتہ کو بتایا کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-2 پر جمعہ کو دوپہر تقریباً 2:30 بجے ایک برفانی تودہ گرنے سے ایک مقامی کوہ پیماء جاں بحق ہوگیا اور ایک غیر ملکی کوہ پیماء معمولی زخمی ہوا۔
کیمپ سے تقریباً پانچ سو میٹر آگے ایک برفانی تودہ اچانک نیچے آ گرا جس نے چار کوہ پیماؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دو کوہ پیماء محفوظ طریقے سے ایڈوانس بیس کیمپ واپس پہنچ گئے جب کہ ایک غیر ملکی کوہ پیماء کو معمولی زخموں کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی کوہ پیما افتخار حسین جو اسکردو کے علاقے سدپارہ کے رہائشی تھے، اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے، لاش کو کے ٹو بیس کیمپ منتقل کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد منتظم نے اے سی پی کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد اور عسکری ایوی ایشن کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی تاکہ جاں بحق کوہ پیما کی میت کو واپس لانے کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن کیا جا سکے۔ یہ درخواست انسانی ہمدردی کی بنیاد پر منظور کر لی گئی اور کوہ پیما کی میت کو فضائی راستے سے اسکردو منتقل کر دیا گیا۔
عرفان ارشد نے جاں بحق کوہ پیما کے لواحقین، دوستوں اور کوہ پیمائی سے وابستہ برادری سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہیں اس دکھ کی گھڑی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اے سی پی کے سینئر نائب صدر قرار حیدری نے بھی افتخار حسین کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کوہ پیمائی کے شعبے سے ان کی وابستگی، عزم اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔






















Comments
Comments are closed.