کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ 19 جولائی (آج) کی ملک گیر ہڑتال کی کال کو تاریخی اور ریکارڈ توڑ حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام ساتوں صنعتی زونز نے ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے۔
جاوید بلوانی کے مطابق سائٹ، کورنگی، لانڈھی، نارتھ کراچی، بن قاسم، سائٹ سپر ہائی وے، اور فیڈرل بی ایریا کی ایسوسی ایشنز کراچی چیمبر کے ساتھ کھڑی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن، سبزی منڈی ایسوسی ایشن اور کباڑی مارکیٹ ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کراچی چیمبر کے صدر کے مطابق پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن اور حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز بھی اس ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔
جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز، نِٹ ویئر اینڈ سوئٹر ایکسپورٹرز، ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز، ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشنز، امتیاز اسٹورز، اور آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن بھی ہڑتال میں شریک ہوں گے۔
جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان سوپ مینوفیکچررز، پلاسٹک امپورٹرز، یارن مرچنٹس اور فلور ملز ایسوسی ایشنز بھی ہڑتال میں شریک ہوں گی۔ مشینری مرچنٹس، ڈینم مینوفیکچررز، آٹو اسپیئر پارٹس ایسوسی ایشنز بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ بیئرنگ مینوفیکچررز، کراچی ٹائر ڈیلرز، موٹر سائیکل ڈیلرز، اور اقبال شاپنگ سینٹر کی شاپ کیپرز ویلفیئر سوسائٹی نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال کے فیصلے سے قبل پاکستان کے چاروں صوبوں کے نمایاں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور نمائندوں سے مکمل مشاورت کی گئی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہڑتال آج 19 جولائی کو اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی اور کسی صورت میں اسے ملتوی یا منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔
تاجر برادری نے فنانس بل میں شامل کیے گئے سیاہ قوانین، جیسے کہ سیکشن 37A اور 37B کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ صنعتی طبقہ ایسے قوانین کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گا۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ مذکورہ قوانین، جن کے تحت ایف بی آر افسران کو محض شک کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کو گرفتار کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے قابل مذمت اقدام ہے۔
ادھر کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے ایسوسی ایشنز اور تجارتی تنظیموں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شہر کی تمام ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ہفتہ، 19 جولائی کو مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
ادھر اسلام آباد میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر کی زیر صدارت تاجروں کے فنانس بل کے خلاف احتجاج سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، رانا احسن افضل، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال، ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض میگو، سہیل الطاف، کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی، لاہور، راولپنڈی سمیت مختلف چیمبرز کے نمائندے زوم کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں ٹیکس قوانین سے متعلق تاجر برادری کے خدشات اور تحفظات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کمیٹی کو ٹیکس بل میں شامل نفاذی اقدامات سے متعلق تاجر برادری کے خدشات سے آگاہ کیا اور فیڈریشن و چیمبرز کی جانب سے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈز بھی اجلاس کے سامنے رکھا۔
اجلاس میں تاجروں کے تحفظات کے ازالے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا، جس میں ایف بی آر کے دو نمائندے، ایف پی سی سی آئی کے دو نمائندے، متعلقہ چیمبر اور شعبے سے ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ٹیکس بل کی شق 9 کو ختم کرنے کی تجویز کو وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت، ہارون اختر کی حمایت حاصل رہی، تاہم یہ حمایت صرف فیڈریشن کی جانب سے دی گئی، دیگر چیمبرز کے نمائندے اس حمایت میں شامل نہیں تھے۔
تاہم اجلاس میں کمیٹی نے تاجر برادری سے مشاورت کے بعد متنازع شق میں ترمیم پر اتفاق کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ خصوصی کمیٹی اپنی تجاویز وزیر اعظم کو حتمی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تاجر برادری کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں طے پانے والی سفارشات کو حکومت منظور کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.