وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، خصوصاً صاف پانی، بجلی، مواصلات اور تعلیم سے متعلق اسکیموں میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو لازمی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مکمل شدہ اور تکمیل کے قریب منصوبوں میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے آزادانہ تصدیق نہایت ضروری ہے۔
وزیراعظم نے موجودہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ زیر التوا منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور تمام صوبوں میں دانش اسکولز جیسے اعلیٰ معیار کے تعلیمی مراکز کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے موجودہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد پسماندہ طبقے کے بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنا اور ترقی کے مساوی مواقع دینا ہے۔
انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آبی ذخائر ملک کی سالمیت کے لیے نہایت اہم ہیں اور اس مقصد کے تحت کئی منصوبے زیر تعمیر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی اور اسلام آباد میں ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے پاکستان خطے اور عالمی سطح پر آئی ٹی کا ایک نمایاں اقتصادی مرکز بنے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈز) کی ترقی حکومت کے اقتصادی وژن کا اہم جزو ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو موجودہ مالی سال کے دوران مکمل شدہ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں مواصلات، آئی ٹی، آبی ذخائر، بجلی، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں سمیت متعدد شعبوں میں منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ نئے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

























Comments
Comments are closed.