بینکاری شعبے کا مجموعی ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) جون 2025 تک کم ہونے کے رجحان پر برقرار رہا اور 38 فیصد کی سطح پر آ گیا۔
منگل کے روز عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2025 میں بینکاری شعبے کا اے ڈی آر 38.1 فیصد رہا، جو مئی 2025 میں 39.8 فیصد تھا، یعنی 172 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سالانہ بنیاد پر بھی یہ شرح 186 بیسس پوائنٹس کم ہوئی ہے، کیونکہ جون 2024 میں اے ڈی آر 40 فیصد تھا۔
دوسری جانب، بینکاری شعبے کا انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) بھی جون 2025 میں کم ہو کر 103 فیصد پر آ گیا، جو مئی 2025 میں 105.8 فیصد تھا، یعنی 282 بیسس پوائنٹس کی کمی۔ تاہم، سالانہ بنیاد پر یہ شرح 608 بیسس پوائنٹس بڑھ گئی ہے، کیونکہ جون 2024 میں آئی ڈی آر 96.9 فیصد تھا۔
آئی ڈی آر میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک سرکاری سرمایہ کاری کے آلات میں زیادہ سرمایہ لگا رہے ہیں، جس کی ممکنہ وجوہات میں پرکشش منافع، نجی شعبے میں کم قرضے لینے کا رجحان، یا محدود مالیاتی طلب شامل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جون 2025 میں بینکاری شعبے کے ڈپازٹس میں سالانہ (14.1 فیصد) اور ماہانہ (8.5 فیصد) دونوں بنیادوں پر مضبوط اضافہ ہوا، اور مجموعی ڈپازٹس بڑھ کر 35.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔
اسی دوران، سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر 21.2 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ ڈپازٹس اور قرضوں دونوں سے زیادہ ہے، اور مجموعی سرمایہ کاری جون 2025 میں 36.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔
قرضوں (ایڈوانسز) کی مالیت جون 2025 میں 13.5 ٹریلین روپے رہی، جس میں سالانہ 8.7 فیصد اور ماہانہ 3.8 فیصد اضافہ ہوا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کریڈٹ کی طلب میں جزوی بحالی دیکھی جا رہی ہے۔






















Comments
Comments are closed.