اٹلی کے وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے پیر کے روز ایک اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں 21 ارب یورو (24.52 ارب ڈالر) مالیت کی امریکی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز دھمکی دی تھی کہ وہ یکم اگست سے میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف نافذ کریں گے، کیونکہ امریکا نے کئی ہفتوں کی بات چیت کے باوجود اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ نہیں کیا۔
انٹونیو تاجانی نے اخبار ایل میسیجرو کو بتایا کہ یورو زون کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کو نیا ”کوانٹیٹیٹیو ایزنگ“ بانڈ خریداری پروگرام اور مزید شرح سود میں کمی پر غور کرنا چاہیے۔
یورپی یونین نے اتوار کو کہا کہ وہ امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات کی معطلی اگست کے اوائل تک بڑھا رہی ہے اور ایک مذاکراتی حل کے لیے کوشاں رہے گی۔
انٹونیو تاجانی نے کہا کہ یورپی یونین کی تیار کردہ 21 ارب یورو کی ابتدائی ٹیرف پیکیج کے بعد اگر امریکا سے معاہدہ ممکن نہ ہو سکا تو دوسرا مرحلہ بھی لایا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف سب کو نقصان پہنچاتے ہیں، سب سے پہلے خود امریکا کو۔ اگر اسٹاک مارکیٹ نیچے گئی تو اس سے امریکی عوام کی پنشنز اور بچتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مقصد زیرو ٹیرف اور کینیڈا، امریکا، میکسیکو اور یورپ کے درمیان کھلی منڈی کا قیام ہونا چاہیے۔
جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے اتوار کے روز کہا کہ وہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین کے ساتھ مل کر امریکا کے ساتھ شدت اختیار کرتی تجارتی جنگ کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

























Comments
Comments are closed.