ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان گزشتہ ماہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک اجلاس پر اسرائیلی حملے میں معمولی زخمی ہو گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل حملہ 17 جون کو اس وقت ہوا جب ایران کی اعلیٰ قیادت — جن میں حکومت کی تینوں شاخوں کے سربراہان شامل تھے — تہران کے مغربی علاقے میں ایک عمارت کے محفوظ زیریں حصے میں اجلاس کر رہے تھے۔
فارس کے مطابق حملے میں عمارت کے داخلی اور خارجی راستوں کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو ہدف بنانے والے ممکنہ قاتلانہ حملے کی طرز پر تھا۔
ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نے ایک پیشگی منصوبہ بندی کے تحت بنائے گئے ایمرجنسی راستے سے عمارت کو خالی کیا، اور اس دوران صدر پیزشکیان کو ہلکی چوٹیں آئیں، لیکن وہ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام حملے کی درستگی کو دیکھتے ہوئے کسی اندرونی معلومات کے افشا ہونے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.