BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

ایکسائز سے جاری شدہ اجرک نمبر پلیٹس ہی قابلِ قبول ہونگی، مکیش چاولہ

  • جب تک سیکیورٹی فیچرز سے مزین نمبر پلیٹس نافذ نہیں ہوتیں، سیف سٹی پروجیکٹ کو کامیابی نہیں مل سکتی، وزیر ایکسائز سندھ
شائع July 12, 2025 اپ ڈیٹ July 12, 2025 02:41pm

وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ نے کہا ہے کہ نئی گاڑی اور موٹر سائیکل نمبر پلیٹس کا اجرا ناگزیر ہے، کیونکہ جب تک حکومت کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی فیچرز سے مزین نمبر پلیٹس مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتیں، سیف سٹی پروجیکٹ کو کامیابی نہیں مل سکتی۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے مکیش کمار چاولہ نے وضاحت کی کہ صرف ایکسائز دفاتر کو نئی اجرک ڈیزائن نمبر پلیٹس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے، اس کے علاوہ کسی بھی بیرونی ایجنٹ یا دکان سے حاصل کردہ پلیٹس قابل قبول نہیں ہونگی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک ہم کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے 20 لاکھ نمبر پلیٹس جاری کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے یہ نمبر پلیٹس پہلی بار 2011 میں متعارف کرائیں اور اس مقصد کے لیے ٹینڈرز جاری کیے جن میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے حصہ لیا۔ تاہم، کچھ سیاسی جماعتوں نے اس عمل کے خلاف حکمِ امتناع حاصل کر لیا جو 2013 تک برقرار رہا۔

2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سندھ میں دوبارہ حکومت قائم کی اور 2014 میں نمبر پلیٹس کے اجرا کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا۔ تاہم، کچھ سیاسی جماعتوں نے ایک اور حکمِ امتناع حاصل کر لیا، جو 2018 تک جاری رہا۔

مکیش چاؤلہ نے بتایا کہ حکمِ امتناع 2021 تک برقرار رہا۔ اس کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئے ٹینڈرز جاری کرنے کے بجائے یہ عمل گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ سطح پر جاری رکھا جائے گا۔

بعد ازاں نمبر پلیٹس کی تیاری کا ٹھیکہ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو دیا گیا جو اس سے قبل پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی کام کرچکی ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ پر کام 2018 میں شروع ہوا، اب تک اس منصوبے کے تحت 12,000 کیمرے نصب کیے جاچکے ہیں۔

میکش چاولہ نے زور دیا کہ جب تک گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں درست طریقے سے رجسٹرڈ اور اصل مالک کے نام پر منتقل نہیں ہوتیں شہر میں جرائم پر مؤثر طریقے سے قابو پانا ناممکن ہے۔

نئی نمبر پلیٹس کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان پلیٹس میں پس منظر میں مخصوص دھاگے ، تھری ڈی ہولوگرامز اور بارکوڈز شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نمبر پلیٹس رات کے وقت بھی کیمروں سے قابلِ شناخت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں تیار کی گئی نمبر پلیٹس میں یہ سیکیورٹی فیچرز موجود نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ کیمروں سے پڑھی جاسکتی ہیں، اسی لیے وہ نئے نظام کے تحت قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے سفید پلیٹس، کمرشل گاڑیوں کے لیے زرد اور سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز پلیٹس متعارف کرائی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی فیس — خواہ وہ سرکاری ہوں یا کمرشل — 2,450 روپے مقرر کی گئی ہے جب کہ موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی فیس 1,850 روپے ہے۔

مکیش چاولہ نے مزید بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل صرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں تک محدود نہیں بلکہ ٹرک اور ڈمپر رکھنے والے افراد بھی اس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اپنا ڈیٹا پولیس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ منسلک کردیا ہے۔

اس ڈیٹا لنکج کے ذریعے حکام یہ جانچ سکتے ہیں کہ کون سی گاڑیاں ٹیکس ادا کرچکی ہیں اور کون سی نہیں۔

کراچی میں اس وقت تقریباً 50 لاکھ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، نئے نظام کے نفاذ سے انہیں ان گاڑیوں کی درست تعداد کا ڈیٹا حاصل ہوسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 سے اب تک تقریباً 20 لاکھ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں رجسٹر ہوچکی ہیں جن کے مالکان کو نمبر پلیٹس جاری کی جاچکی ہیں۔

صوبائی وزیر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پہلے مرحلے میں این آر ٹی سی نے 8 لاکھ نمبر پلیٹس تیار کیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں 12 لاکھ پلیٹس تیار کر کے فراہم کی گئیں۔

مکیش چاولہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے مالی سال 2024-25 میں 20 ارب روپے کا ریونیو ہدف حاصل کیا۔

ایکسائز دفاتر کے باہر ایجنٹ مافیا کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ پورا عمل ون ونڈو آپریشن کے تحت جاری ہے، اس موقع پر انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ براہِ راست ایکسائز دفاتر سے رجوع کریں۔

دوسری جانب ایک کار مالک محمد دانش نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس نے اپنی گاڑی رجسٹرڈ کرانے کے لیے ایک ایجنٹ کو 10 ہزار روپے ادا کیے اور اسے ایک ماہ کے اندر نمبر پلیٹ موصول ہوگئی۔

موٹر سائیکل کے مالک سہیل خان نے بتایا کہ انہوں نے تین ماہ قبل نمبر پلیٹ کے لیے درخواست دی تھی مگر متعدد بار ایکسائز دفتر جانے کے باوجود انہیں اب تک پلیٹ موصول نہیں ہوئی۔

ایک اور موٹر سائیکل سوار محمد فیض احمد نے کہا کہ انہوں نے مارکیٹ سے ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹ بنوا لی ہے اور اسی پر گزارا کررہے ہیں۔ انہوں نے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں آخری تاریخیں بڑھتی رہیں گی اور حالات جوں کے توں رہیں گے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس سندھ سے اپیل کی کہ وہ موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو نئی اجرک تھیم پر مبنی پلیٹس سے تبدیل کرنے کے نام پر کراچی کے شہریوں اور تاجروں سے 8 ارب روپے کی مبینہ سرِ عام لوٹ مار پر ازخود نوٹس لیں۔

Comments

Comments are closed.