اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے ہفتہ کے روز وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو تحلیل کر کے اس کے تمام اثاثے، اختیارات اور فرائض میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کو منتقل کیے جائیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز کو مرکزی شاہراہوں سے براہ راست رسائی کے عوض ’رائٹ آف وے چارجز‘ وصول کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے سی ڈی اے کے جاری کردہ اس حوالے سے ایس آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سی ڈی اے کی تحلیل کا عمل فوری طور پر شروع کرے اور مکمل کرے، اور اس کے تمام اختیارات اور اثاثے ایم سی آئی کو منتقل کیے جائیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس آر او کے تحت سی ڈی اے کے تمام اقدامات غیر قانونی قرار دیے جاتے ہیں۔ اگر سی ڈی اے نے اس ایس آر او کے تحت کسی سے کوئی رقم وصول کی ہے تو وہ واپس کی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سی ڈی اے آرڈیننس کا مقصد ترقیاتی کام تھا، تاہم اب نئے قوانین اور طرز حکمرانی کے بعد اس کی افادیت باقی نہیں رہی۔
عدالت نے کہا کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسلام آباد میں انتظامیہ شفاف اور جواب دہ ہو۔ اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کا قانونی تحفظ کیا جائے اور شہر کی تمام انتظامی، ریگولیٹری اور بلدیاتی ڈھانچہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت چلایا جائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ منتخب نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کے لیے خصوصی قانون ہے، اور اس قانون کے مطابق مقامی حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔ سی ڈی اے کو ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ سی ڈی اے نے پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز پر رسائی کے لیے ٹیکس عائد کیا تھا، اس کے علاوہ رہائشی سوسائٹیز کو مرکزی شاہراہوں سے براہ راست رسائی دینے پر بھی ٹیکس لاگو کیا گیا تھا۔






















Comments
Comments are closed.