BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-0.89%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 23.25 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
BOP 28.40 Decreased By ▼ -0.26 (-0.91%)
CNERGY 13.65 Decreased By ▼ -0.43 (-3.05%)
DFML 15.43 Decreased By ▼ -0.30 (-1.91%)
DGKC 178.79 Decreased By ▼ -3.21 (-1.76%)
FABL 91.86 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.39 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.21 Decreased By ▼ -0.35 (-1.79%)
HBL 291.80 Decreased By ▼ -3.10 (-1.05%)
HUBC 193.70 Decreased By ▼ -0.34 (-0.18%)
HUMNL 8.60 Increased By ▲ 0.23 (2.75%)
KEL 5.78 Decreased By ▼ -0.18 (-3.02%)
LOTCHEM 23.81 Decreased By ▼ -0.66 (-2.7%)
MLCF 90.56 Decreased By ▼ -0.47 (-0.52%)
OGDC 306.75 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 32.31 Decreased By ▼ -0.41 (-1.25%)
PIBTL 12.90 Decreased By ▼ -0.18 (-1.38%)
PIOC 233.05 Decreased By ▼ -1.51 (-0.64%)
PPL 214.70 Decreased By ▼ -0.82 (-0.38%)
PRL 96.28 Decreased By ▼ -4.53 (-4.49%)
SNGP 90.40 Decreased By ▼ -1.44 (-1.57%)
SSGC 22.50 Decreased By ▼ -0.64 (-2.77%)
TELE 6.70 Decreased By ▼ -0.11 (-1.62%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.75 Decreased By ▼ -1.33 (-2.51%)
UNITY 7.78 Increased By ▲ 0.10 (1.3%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
پاکستان

زرمبادلہ کی کمی: ای سی سی نے چینی درآمد کا منصوبہ مؤخر کر دیا

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے زرمبادلہ کی کمی کے باعث چینی درآمد کرنے کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔ گزشتہ پیر کو...
شائع اپ ڈیٹ

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے زرمبادلہ کی کمی کے باعث چینی درآمد کرنے کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔

گزشتہ پیر کو وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔

ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو ملک میں جاری چینی بحران کی نگرانی کر رہے ہیں، پہلے ہی 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی منظوری دے چکے ہیں۔ تاہم خطے میں کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث درآمدی چینی کی حتمی لاگت ابھی تک واضح نہیں۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق، وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ’’ملک میں چینی کی قلت کے پیش نظر قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے درآمد ایک ناگزیر فیصلہ تھا۔ توقع ہے کہ درآمد شدہ چینی جلد ہی مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہو گی تاکہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شوگر مل مالکان کی جانب سے من مانے نرخوں میں اضافے کو موجودہ بحران کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی قلت پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کی برآمد کے ذریعے صنعت نے اربوں روپے کمائے، اور پھر قلت کا جواز بنا کر درآمد کی منظوری حاصل کی گئی، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑا۔

جمعہ کے روز قومی غذائی تحفظ کی وزارت کی جانب سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی سمری پر غور کے لیے ای سی سی نے اجلاس بلایا، تاہم کمیٹی نے فوری منظوری کے بجائے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.