مئی میں بجلی کی پیداوار 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
- گزشتہ ماہ بجلی کی پیداوار21 فیصد اضافے سے 12 ہزار755 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی
مئی 2025 کے دوران بجلی کی پیداوار 12,755 گیگاواٹ آور رہی جو اپریل 2025 کے مقابلے میں 21 فیصد سے زائد ماہانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے، یہ اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت ہے۔
اپریل 2025 میں بجلی کی پیداوار 10,513 گیگاواٹ آور رہی تھی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ مئی 2025 کی بجلی کی پیداوار گزشتہ 9 ماہ میں سب سے زیادہ رہی ہے۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق حکومت کے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے فیصلے کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
علاوہ ازیں ماہرین نے نشاندہی کی کہ درجہ حرارت اور ہائیڈل بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ بھی طلب میں بہتری کا باعث بنے ہیں۔
مئی 2025 کے دوران بجلی کی پیداوار سالانہ 12,618 گیگاواٹ کے مقابلے میں 1 فیصد بڑھ کر 12,755 گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی۔
تاہم مالی سال 2025 کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی)کے دوران بجلی کی پیداوار 113,598 گیگاواٹ آور کی نسبت 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 113,415 گیگاواٹ آور رہی۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی کل لاگت میں 22 فیصد کمی واقع ہوئی جو مئی 2025 میں فی یونٹ 7.8 روپے رہی جب کہ اپریل 2025 میں یہ 9.9 روپے فی یونٹ رہی تھی۔
سالانہ بنیاد پر بجلی کی پیداواری لاگت 11 فیصد کم ہو کر مئی 2025 میں 8.7 روپے فی یونٹ رہی جو مئی 2024 کی نسبت کم ہے۔
مئی میں، ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنی، جس نے مجموعی پیداواری حصے میں 38 فیصد حصہ لیا۔
اس کے بعد آر ایل این جی کا نمبر آیا جس کا حصہ 17 فیصد رہا جبکہ نیوکلیئر بجلی نے 16 فیصد حصہ دیا۔
قابل تجدید توانائی میں ہوا اور شمسی توانائی نے بالترتیب 3 فیصد اور 1 فیصد حصہ لیا۔

























Comments
Comments are closed.