وزیراعظم اور چینی سفیر کے درمیان سی پیک منصوبوں پر تبادلہ خیال
- سی پیک اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم ترین منصوبہ قرار
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا اور اسے اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ترین منصوبہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے ملاقات میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، جیسے مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے اپ گریڈ، قراقرم ہائی وے کی توسیع اور گوادر بندرگاہ کی ترقی کی بروقت تکمیل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں زراعت، صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت وسیع تر شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔
شہبازشریف نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد کی امید ظاہر کی جس میں پاکستان کی شرکت متوقع ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم کے مجوزہ دورہ چین کے حوالے سے مشاورت جاری ہے جو غالباً اگست کے آخر میں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری لانے میں چین کی مسلسل مالی و اقتصادی معاونت پر بیجنگ کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیر جیانگ نے بین الاقوامی فورمز، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
دونوں جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے قبل قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا، اور امن، ترقی اور علاقائی روابط کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.