شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔
حکومت کی جانب سے رواں مالی سال بڑی مقدار میں چینی برآمد کیگئی جس کے نتیجے میں ملک میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) کا اجلاس وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چینی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور مارکیٹ میں اس کی مستقل فراہمی یقینی بنانے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مئی تک 7,65,734 میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی جس سے 114 ارب روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوا،تاہم توقع کے مطابق اس برآمد کے بعد مقامی سطح پر چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ 190 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملک بھر میں چینی کی فراہمی میں کمی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث چینی درآمد کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ انہوں نے چینی کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ شوگر مل مالکان کی جانب سے بلاجواز قیمتوں میں اضافہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چینی درآمد کرنے سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں آئندہ چند روز میں مکمل کر لی جائیں گی اور درآمدی چینی کو جلد از جلد مارکیٹ میں لایا جائے گا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اور ملک بھر میں چینی کی فراہمی اور قیمتوں کی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صورتحال فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ چینی کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور اس کی دستیابی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.