BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

یہ ناقابلِ یقین بات ہونی چاہیے کہ 2025 میں بھی پاکستان میں صرف 14 فیصد خواتین مالی نظام میں شامل ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہوچکے ہیں اور اب بھی اس حقیقت کا سامنا کررہے ہیں کہ آدھی آبادی بڑی حد تک مالیاتی نظام سے محروم ہے۔

تازہ ترین کارانداز فنانشل انکلوژن سروے کے اعدادوشمار ایک تشویشناک منظر پیش کرتے ہیں۔ مردوں میں مالی شمولیت 56 فیصد تک پہنچ چکی ہے لیکن خواتین بدستور پیچھے ہیں اور صرف 14 فیصد کی سطح پر جمی ہوئی ہیں۔ معاشی محرومی کی شدت کو اتنی وضاحت سے شاید کوئی اور اشاریہ بیان نہیں کرتا۔

یہ کوئی معمولی ترقیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی بحران ہے۔ جو ممالک پائیدار ترقی، دولت کی منصفانہ تقسیم اور انسانی ترقی کے بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ ایسے مالیاتی نظام کے متحمل نہیں ہوسکتے جو صرف ایک صنف کو خدمات فراہم کرے۔ لیکن پاکستان کی رسمی معیشت آج بھی خواتین کو مسلسل نظر انداز اور کمتر سمجھتی ہے۔

یہ حقیقت کہ موبائل والیٹ کا استعمال مردوں میں 48 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ خواتین میں صرف 11 فیصد ہے، اس صنفی خلا کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جہاں ڈیجیٹل سہولتیں نے رسمی بینکاری کو بظاہر آسان بنایا ہے، وہاں بھی خواتین پیچھے رہ گئی ہیں۔

یہ صرف ٹیکنالوجی تک رسائی کا مسئلہ نہیں بلکہ گہری ساختی غفلت کا مظہر ہے۔ موبائل فون رکھنے سے لے کر سم رجسٹریشن تک، خواندگی سے لے کر گھریلو اجازت تک—خواتین کے لیے اس پوری زنجیر کا ہر کَڑا کمزور ہے۔ اور ریاست کو اسے ٹھیک کرنے کی کوئی جلدی نظر نہیں آتی۔ حیرت انگیز طور پر آج تک کوئی جامع قومی حکمتِ عملی موجود نہیں جو مالیاتی رسائی میں صنفی خلا کو مؤثر طور پر ختم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہو۔ ملک کی ڈیجیٹل فنانس پالیسی دستاویزات میں بھی ایسا کوئی مضبوط منصوبہ موجود نہیں جو اس حقیقت سے مؤثر طور پر نمٹ سکے کہ لاکھوں خواتین آج بھی بینکاری نظام سے باہر، وسائل سے محروم اور مالیاتی طور پر غیردیدہ ہیں۔

علاقائی تفاوت بھی نہایت چونکا دینے والی ہے۔ بلوچستان میں صرف 4 فیصد خواتین مالیاتی نظام میں شامل ہیں جب کہ آزاد جموں و کشمیر میں یہ شرح محض 1 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار سست رفتاری کی نہیں، بلکہ مکمل ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے علاقے میں، جہاں بنیادی ڈھانچہ اور رسائی نسبتاً بہتر ہے، خواتین کی مالی شمولیت محض 38 فیصد ہے، جو کسی بھی معقول معیار سے کہیں کم ہے۔ اس قدر بڑے پیمانے پر اخراج کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں، خاص طور پر جب موبائل والٹس اور آسان بینکاری سہولیات دستیاب ہیں۔

ٹیکنالوجی کو اکثر ایک عظیم مساوات پیدا کرنے والے عنصر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے — لیکن یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب رسائی سب کیلئے یکساں ہو اور پاکستان میں صورتِ حال ایسی نہیں ہے، یہاں صرف 46 فیصد خواتین موبائل فون کی مالک ہیں جب کہ مردوں میں یہ شرح 80 فیصد سے زائد ہے۔ اس سے بھی کم خواتین ایسی ہیں جن کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔ جب تک خواتین کو ذاتی ڈیجیٹل سہولتوں تک محفوظ رسائی حاصل نہیں ہوگی، موبائل پر مبنی مالیاتی سہولتیں اپنے اصل صارفین تک نہیں پہنچ سکتیں، یہ رکاوٹیں اچھی طرح معلوم ہیں، اس کے باوجود پالیسی سطح پر اقدامات نہایت سست، غیرمربوط اور صرف ردعمل کی صورت میں کیے گئے ہیں۔

آگے بڑھنے کے راستے موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کو مالی شمولیت کے دروازے کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔ موبائل کمپنیوں کو ترغیب دی جاسکتی ہے کہ وہ خواتین کے نام پر سم رجسٹریشن کا عمل زیادہ محفوظ اور آسان بنائیں۔ بینک ایسے سادہ اور کم لاگت والے اکاؤنٹس متعارف کر سکتے ہیں جو پہلی بار بینکاری سے وابستہ ہونے والی خواتین کے لیے موزوں ہوں جبکہ سول سوسائٹی دیہی علاقوں میں خواتین کی مالی آگاہی اور خواندگی بڑھانے کے لیے مہمات چلاسکتی ہے۔ ان تجاویز میں کوئی نئی بات نہیں، لیکن اصل کمی ان پر وسیع سطح پر عمل کے لیے سیاسی عزم کی ہے۔

یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا مسئلہ ہے، وہ ممالک جو اپنی خواتین کو اقتصادی طور پر بااختیار بناتے ہیں انہیں ڈومیسٹک بچت، تعلیم، صحت کے نتائج اور جی ڈی پی میں اضافے کی صورت میں فوائد حاصل ہوتے ہیں جب کہ خواتین کو نظر انداز کرنے والے ممالک کو جمود اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ناقابل برداشت ہے کہ وہ دوسرا راستہ اختیار کرے۔

مالی شمولیت کوئی خیرات نہیں، نہ ہی یہ کوئی ترقیاتی منصوبہ ہے جسے محض رپورٹس میں مکمل ظاہر کرنا ہو۔ یہ معیشت میں شراکت اور بااختیاری کی بنیاد ہے — اور اس وقت بہت سی پاکستانی خواتین اس بنیاد سے محروم ہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کی قیمت صرف خواتین نہیں، پورا ملک چکائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.