BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.74 Decreased By ▼ -0.46 (-0.82%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.33 (1.23%)
BOP 32.75 Decreased By ▼ -0.23 (-0.7%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.90 Increased By ▲ 0.18 (1.02%)
DGKC 196.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.34%)
FABL 98.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.09 Increased By ▲ 0.84 (1.64%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.32 (1.98%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 292.40 Decreased By ▼ -3.09 (-1.05%)
HUBC 214.25 Increased By ▲ 0.07 (0.03%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.18 Increased By ▲ 0.12 (1.7%)
LOTCHEM 26.85 Decreased By ▼ -2.27 (-7.8%)
MLCF 88.75 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
OGDC 310.37 Decreased By ▼ -1.58 (-0.51%)
PAEL 40.95 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 15.94 Decreased By ▼ -0.02 (-0.13%)
PIOC 284.70 Increased By ▲ 1.86 (0.66%)
PPL 212.00 Decreased By ▼ -0.66 (-0.31%)
PRL 53.40 Increased By ▲ 0.86 (1.64%)
SNGP 98.70 Decreased By ▼ -0.66 (-0.66%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.36 Increased By ▲ 0.04 (0.48%)
TPLP 13.00 Decreased By ▼ -0.22 (-1.66%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.02 (1.64%)

ایرانی میزائلوں نے پیر کے روز اسرائیل کے شہر تل ابیب اور بندرگاہی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ ادھر عالمی رہنماؤں میں اس ہفتے ہونے والے جی-7 اجلاس میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ دونوں پرانے دشمنوں کے درمیان جاری جنگ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ان حملوں میں ملک کے وسطی علاقے میں 3 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ایمرجنسی حکام کے مطابق، شمالی شہر حیفہ میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے، جبکہ درجنوں ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بندرگاہ کے قریب ایک پاور پلانٹ میں آگ لگنے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

لائیو ویڈیو فوٹیج میں تل ابیب پر کئی میزائل دیکھے گئے، جبکہ یروشلم پر بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رائٹرز کے گواہوں کے مطابق تل ابیب میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے جمعے کو اسرائیل کی جانب سے اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کیے گئے پیشگی حملوں کے جواب میں کئی مرحلوں پر مشتمل میزائل حملے شروع کیے۔

 ۔
۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ تازہ ترین حملے میں ایک نیا طریقہ کار اپنایا گیا جس کے باعث اسرائیل کے کثیرالسطح دفاعی نظام ایک دوسرے کو نشانہ بنانے لگے۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں استعمال کی گئی حکمت عملی اور صلاحیتوں کی بدولت، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے باوجود، میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں میں اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، پہلے حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان نے کہا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 224 ہو چکی ہے، جن میں سے 90 فیصد عام شہری ہیں۔

جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنما اتوار کو کینیڈین راکیز میں جمع ہو چکے ہیں، جہاں اسرائیل-ایران تنازعہ مرکزی موضوع ہو گا۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت، تنازع کو بڑھنے سے روکنا، اور سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہے۔

 ۔
۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی-7 روانگی سے قبل کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے معاہدے کا۔ بعض اوقات فریقین کو آپس میں لڑنا پڑتا ہے۔“

ایرانی ذرائع کے مطابق، تہران نے قطر اور عمان جیسے ثالثوں کو بتایا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری ہیں، جنگ بندی پر مذاکرات ممکن نہیں۔

اسرائیل پر دن کی روشنی میں پہلا حملہ

اتوار کو ایران نے اسرائیل پر دن کی روشنی میں پہلی بار میزائل حملہ کیا، جس کے بعد رات کے وقت حیفہ کے رہائشی علاقے میں حملے ہوئے۔

تل ابیب کے قریب بات یام شہر میں رہائشیوں نے اتوار کی شب ایک اور بے چین رات کے لیے تیاری کی، جہاں ایک اپارٹمنٹ پر میزائل حملہ ہوا۔ 29 سالہ شہری شم نے کہا: ”یہ بہت خوفناک ہے، کوئی خوشی کی بات نہیں۔ لوگ اپنی جانیں اور گھر کھو رہے ہیں۔“

تہران سے موصولہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایندھن کے ڈپو پر آگ بھڑک اٹھی ہے، جو ایران کے تیل و گیس کے شعبے پر اسرائیل کے حملوں کا نتیجہ تھی۔ اس سے نہ صرف ایرانی ریاست بلکہ عالمی معیشت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

پیر کے روز ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 70 سینٹ یا 1 فیصد بڑھ کر 74.94 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ سیشن کے آغاز میں یہ 4 ڈالر تک بڑھ چکی تھی۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا، ایشیائی اسٹاک اور کرنسی مارکیٹس میں کوئی بڑا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

بالاسٹ راک پرائیویٹ ویلتھ کے مشیر جم کیرول نے کہا: ”فی الحال یہ زیادہ تیل کی کہانی ہے نہ کہ اسٹاک کی۔ اسٹاک مارکیٹس ابھی تک سنبھلی ہوئی ہیں۔“

ٹرمپ کی جانب سے خامنہ ای پر حملے کی منظوری سے انکار

واشنگٹن میں دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جسے صدر ٹرمپ نے ویٹو کر دیا۔

جب نیٹین یاہو سے اس رپورٹ کے بارے میں فاکس نیوز نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایسی بہت سی جھوٹی رپورٹس ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اور میں ان پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہم وہی کرتے ہیں جو ضروری ہوتا ہے۔

اسرائیل نے جمعے کو ایران کے ملٹری کمانڈ کی اعلیٰ قیادت اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے ذریعے حملے کا آغاز کیا تھا، اور اعلان کیا ہے کہ یہ مہم آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گی۔

ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق، اتوار کو تہران میں حملے کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس چیف محمد کاظمی اور ان کے نائب ہلاک ہو گئے۔

ایران نے انتباہ دیا ہے کہ وہ “جہنم کے دروازے کھول دے گا۔

ٹرمپ کی ایران کو حملہ نہ کرنے کی وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کو سراہا ہے، ساتھ ہی ایران کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ امریکا اس تنازعے میں براہ راست شریک ہے۔ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کا دائرہ بڑھا کر امریکی اہداف کو نشانہ نہ بنائے۔

دو امریکی حکام نے جمعے کے روز بتایا کہ امریکی فوج نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے میں مدد فراہم کی۔

 ۔
۔

امریکی صدر بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران اس جنگ کا خاتمہ اُس وقت کر سکتا ہے جب وہ اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن مغربی ممالک اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان اتوار کے روز ہونے والے جوہری مذاکرات کا دور منسوخ کر دیا گیا تھا، کیونکہ تہران نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری ہیں، وہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔

Comments

Comments are closed.