BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.74 Decreased By ▼ -0.46 (-0.82%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.33 (1.23%)
BOP 32.75 Decreased By ▼ -0.23 (-0.7%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.90 Increased By ▲ 0.18 (1.02%)
DGKC 196.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.34%)
FABL 98.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.09 Increased By ▲ 0.84 (1.64%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.32 (1.98%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 292.40 Decreased By ▼ -3.09 (-1.05%)
HUBC 214.25 Increased By ▲ 0.07 (0.03%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.18 Increased By ▲ 0.12 (1.7%)
LOTCHEM 26.85 Decreased By ▼ -2.27 (-7.8%)
MLCF 88.75 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
OGDC 310.37 Decreased By ▼ -1.58 (-0.51%)
PAEL 40.95 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 15.94 Decreased By ▼ -0.02 (-0.13%)
PIOC 284.70 Increased By ▲ 1.86 (0.66%)
PPL 212.00 Decreased By ▼ -0.66 (-0.31%)
PRL 53.40 Increased By ▲ 0.86 (1.64%)
SNGP 98.70 Decreased By ▼ -0.66 (-0.66%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.36 Increased By ▲ 0.04 (0.48%)
TPLP 13.00 Decreased By ▼ -0.22 (-1.66%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.02 (1.64%)

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 50 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور اس تنازع کے ممکنہ پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ناقابلِ پیش گوئی نتائج لا سکتا ہے۔

اوشاکوف کے مطابق، ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی مذاکرات کار ایرانی نمائندوں کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے تیار ہیں، جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ تاہم اتوار کو طے شدہ مذاکرات کا تازہ دور منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اوشاکوف کے مطابق، پیوٹن نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ روس نے موجودہ کشیدگی سے قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں باہمی قبولیت پر مبنی حل کے لیے ٹھوس تجاویز دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے روس کا اصولی مؤقف اور دلچسپی بدستور برقرار ہے، اور جیسا کہ ولادیمیر پیوٹن نے کہا، ہم اسی مؤقف کی بنیاد پر اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے حوالے سے پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس 22 جون کے بعد یوکرینی حکام سے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

کریملن کے مطابق، ٹرمپ نے روس-یوکرین تنازع کے ”جلد از جلد خاتمے“ میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔

اوشاکوف نے یہ بھی بتایا کہ دونوں صدور نے ”اپنے ذاتی تعلقات پر اطمینان“ کا اظہار کیا، جن کی بدولت وہ باہمی اور عالمی معاملات پر، خواہ وہ کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، مؤثر اور مثبت انداز میں بات کر پاتے ہیں۔

پیوٹن نے ٹرمپ کو ان کی 79ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی دی۔

Comments

Comments are closed.