وزیراعظم شہباز شریف کی ایران میں موجود پاکستانی زائرین کے تحفظ اور معاونت کی ہدایت
- پاکستان نے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ایران اور عراق کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ایران میں موجود پاکستانی زائرین کے تحفظ اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ بات ریڈیو پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ سرکاری اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی زائرین کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔
صورتحال کے پیش نظر دفتر خارجہ نے بیرونِ ملک موجود پاکستانی شہریوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک کرائسس مینجمنٹ سیل بھی قائم کر دیا ہے۔
قبل ازیں پاکستان نے جمعہ کے روز اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران اور عراق کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں، یہ ہدایت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر مبینہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان سے زائرین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایران اور عراق کے سفر کے منصوبے پر نظرِ ثانی کریں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تہران اور بغداد میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور مقامی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ سرکاری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ایران میں موجود پاکستانی زائرین کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے ان کی حفاظت اور محفوظ واپسی کے لیے مربوط اقدامات پر زور دیا ہے۔
حالیہ صورتِ حال کے پیش نظر دفتر خارجہ نے بیرون ملک موجود شہریوں کو ہنگامی مدد فراہم کرنے کے لیے ایک کرائسس مینجمنٹ سیل قائم کر دیا ہے۔
پاکستانی سفارت خانے ایران اور عراق میں ہائی الرٹ پر ہیں اور انہیں حکومتی حکام کو کسی بھی سکیورٹی خدشات یا پاکستانیوں کی ہنگامی ضروریات سے فوری آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ ہدایت جمعے کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے جن میں مبینہ طور پر ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی سینئر ایرانی فوجی کمانڈرز اور سائنسدان مارے گئے ہیں۔ اس واقعے نے وسیع پیمانے پر علاقائی تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔



















Comments
Comments are closed.