وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 5 ارب روپے کی مارک اپ سبسڈی مختص کی ہے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے شروع کی جائے گی۔ اس اسکیم کا مقصد عوام کو سستی فنانسنگ کے ذریعے اپنا گھر بنانے میں مدد دینا ہے۔
آئندہ بجٹ میں حکومت نے تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے متعدد مراعات اور مثبت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جون 2022 میں ’’میرا پاکستان میرا گھر‘‘ کے نام سے ایک کم لاگت ہاؤسنگ فنانس اسکیم کو سبسڈی کے اخراجات کم کرنے کی غرض سے اچانک معطل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد کوئی نئی کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم متعارف نہیں کرائی گئی۔
اب، ملک میں رہائش کے بحران پر قابو پانے اور ہاؤسنگ و تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نئے بجٹ میں ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق 250 مربع گز تک کے مکان یا 2,000 مربع فٹ یا اس سے کم رقبے والے فلیٹ کی تعمیر یا خریداری کے لیے لیے گئے قرض پر ادا کردہ منافع پر متناسب ٹیکس کریڈٹ دیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں 5 ارب روپے مارک اپ سبسڈی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے لیے بھی ایک ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔
تعمیرات و ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے ان اقدامات کو ماہرین نے سراہا ہے اور انہیں بروقت، اصلاحاتی اور معیشت کی بحالی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
امریکہ میں مقیم ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر انوش احمد نے بجٹ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی شعبے کی قومی معیشت، روزگار اور صنعتی ترقی میں کلیدی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعت سیمنٹ، اسٹیل، برقی آلات اور ہوم فرنشنگ سمیت متعدد منسلک صنعتوں کی بنیاد ہے، اور اس شعبے کی مضبوطی معیشت میں ملازمتوں اور صنعتی پیداوار میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
ڈاکٹر انوش نے پراپرٹی کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 4 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد، 3.5 فیصد سے 2 فیصد، اور 3 فیصد سے 1.5 فیصد کرنے کے فیصلے کو خاص طور پر سراہا اور کہا کہ اس سے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور خریداروں پر مالی بوجھ کم ہوگا اور ریئل اسٹیٹ کے لین دین کو زیادہ پرکشش اور قابل عمل بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے کمرشل جائیدادوں، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز کو بھی سراہا اور اسے ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا جو ساختی رکاوٹوں کے خاتمے اور ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی مدد سے رہن فنانسنگ (مارگیج فنانسنگ) کو فروغ دینے کے منصوبے کو بھی خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات متوسط طبقے کے لیے سہولت پیدا کریں گے اور کم لاگت ہاؤسنگ اسکیموں کی ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.