BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک میں اپریل 2026 کے اوائل میں عام انتخابات ہوں گے، جو کہ گزشتہ برس عوامی بغاوت کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔

جنوبی ایشیا کے اس ملک، جس کی آبادی تقریباً 17 کروڑ ہے، میں اگست 2024 میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی طلباء کی قیادت میں بغاوت کے ذریعے برطرفی کے بعد سے سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ سخت گیر دورِ حکومت کا اختتام اسی بغاوت کے نتیجے میں ہوا تھا۔

محمد یونس، جو کہ 84 سالہ نوبل امن انعام یافتہ شخصیت ہیں اور اس وقت عبوری حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں ملک کے عوام کو مطلع کر رہا ہوں کہ انتخابات آئندہ سال اپریل کے وسط میں کسی بھی دن منعقد ہوں گے۔

سیاسی جماعتیں مسلسل محمد یونس سے انتخابی شیڈول طے کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں جبکہ یونس کا موقف رہا ہے کہ شیخ حسینہ کے دور کے بعد جمہوری اداروں کی ازسرِنو تشکیل کے لیے وقت درکار ہے۔

انہوں نے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتخابی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنی پُرانی تنبیہ کو دہرایا۔

انہوں نے عید الاضحی کی آمد پر قوم سے اپنے خصوصی پیغام میں مزید کہا کہ یہ یاد رکھا جائے کہ جب بھی بنگلہ دیش میں ناقص اور غیر شفاف انتخابات ہوئے ملک سنگین بحران میں مبتلا ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے ماضی میں اسی قسم کے انتخابات کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک وحشیانہ فاشسٹ قوت میں تبدیل ہو گئی۔

شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالیاں دیکھنے میں آئیں، جب کہ ان کی حکومت پر عدلیہ اور سول سروس کو سیاسی اثر و رسوخ کے تحت چلانے اور جانبدارانہ انتخابات کروانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

عبوری حکومت پہلے ہی کئی بار اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ انتخابات جون 2026 سے قبل کروا دیے جائیں گے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے لیے جتنا زیادہ وقت میسر ہوگا، انتخابی عمل اتنا ہی مضبوط اور شفاف ہو سکے گا۔

اصلاحات انتہائی ناگزیر ہیں

اہم اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جسے آنے والے انتخابات کا مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، حالیہ ہفتوں میں دسمبر میں انتخابات کرانے کے لیے شدید دباؤ ڈالتی رہی ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل وقارالزمان نے بھی مئی میں افسران سے خطاب کے دوران بنگلہ دیشی میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق، کہا تھا کہ انتخابات دسمبر تک مکمل ہو جانے چاہئیں۔

اس خطاب کے چند روز بعد حکومت کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ سیاسی طاقت کی رسہ کشی ان ترقیاتی ثمرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو حالیہ عرصے میں حاصل کیے گئے ہیں۔

محمد یونس نے جمعہ کے روز کہا کہ ایسے انتخابات منعقد کروانے والے بعد میں مجرم سمجھے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے اقتدار میں آنے والے عوامی نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عبوری حکومت کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شفاف اور وسیع شراکت داری پر مبنی انتخابی عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک دوبارہ کسی نئے بحران کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسی لیے ادارہ جاتی اصلاحات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

Comments

Comments are closed.