BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-1.09%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.47%)
BAFL 58.90 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 24.00 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
BOP 31.26 Decreased By ▼ -0.44 (-1.39%)
CNERGY 12.24 Increased By ▲ 0.18 (1.49%)
DFML 15.82 Increased By ▲ 0.27 (1.74%)
DGKC 200.84 Decreased By ▼ -2.35 (-1.16%)
FABL 92.11 Decreased By ▼ -1.03 (-1.11%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.91 (-1.55%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.51 Decreased By ▼ -0.40 (-2.01%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -1.26 (-0.42%)
HUBC 202.00 Decreased By ▼ -6.05 (-2.91%)
HUMNL 8.61 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.47 Decreased By ▼ -0.35 (-1.41%)
MLCF 99.90 Decreased By ▼ -2.19 (-2.15%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 33.60 Decreased By ▼ -0.42 (-1.23%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 259.89 Decreased By ▼ -5.55 (-2.09%)
PPL 218.00 Decreased By ▼ -3.30 (-1.49%)
PRL 86.20 Increased By ▲ 1.60 (1.89%)
SNGP 92.15 Decreased By ▼ -1.70 (-1.81%)
SSGC 22.66 Decreased By ▼ -0.28 (-1.22%)
TELE 7.12 Increased By ▲ 0.05 (0.71%)
TPLP 13.28 Increased By ▲ 0.17 (1.3%)
TRG 53.40 Decreased By ▼ -0.63 (-1.17%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.04 Increased By ▲ 0.10 (10.64%)

بھارتی وزارتِ دفاع نے ملک کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کا اعلان منگل کے روز کیا گیا۔ یہ اقدام پاکستان کے ساتھ حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اسلحہ کی دوڑ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق، ریاستی ادارے ایرو ناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے) کو اس منصوبے پر عملدرآمد کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، جو جلد ہی اس طیارے کے پروٹوٹائپ کی تیاری کے لیے دفاعی کمپنیوں سے ابتدائی دلچسپی کی درخواست جاری کرے گا۔ یہ جیٹ دو انجنوں پر مشتمل پانچویں جنریشن کا اسٹیلتھ فائٹر ہو گا۔

یہ منصوبہ بھارتی فضائیہ کے لیے انتہائی اہم ہے، جس کے اسکواڈرنز کی تعداد روسی اور سابق سوویت طیاروں پر انحصار کے باعث 42 سے گھٹ کر 31 رہ گئی ہے، جبکہ چین تیزی سے اپنی فضائی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

پاکستان پہلے ہی چین کا جدید ترین جنگی طیارہ J-10 اپنے فضائی بیڑے میں شامل کر چکا ہے۔

جوہری طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں چار دن تک شدید عسکری جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں جانب سے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک نے وسیع پیمانے پر ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں ایک نئی ڈرون وار شروع ہو چکی ہے۔ یہ بات رائٹرز کو دیے گئے سیکیورٹی حکام، صنعت کاروں اور تجزیہ کاروں کے انٹرویوز میں سامنے آئی ہے۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اس اسٹیلتھ فائٹر پروگرام میں مقامی کمپنی کے ساتھ شراکت کرے گا، اور نجی یا ریاستی ملکیتی ادارے تنہا یا جوائنٹ وینچر کی شکل میں بولی دے سکیں گے۔

رواں سال مارچ میں ایک بھارتی دفاعی کمیٹی نے نجی شعبے کو فوجی طیارہ سازی میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے اور ریاستی کمپنی ”ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ“ (ہال) پر بوجھ کم کیا جا سکے، جو زیادہ تر بھارتی فوجی طیارے تیار کرتی ہے۔

ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ پہلے ہی ہال پر ہلکے لڑاکا طیارے ”تیجس“ کی سست فراہمی پر تنقید کر چکے ہیں، جس کا الزام ہال نے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کی جانب سے انجن کی سپلائی میں تاخیر پر عائد کیا، جو کہ اس وقت سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے۔

Comments

Comments are closed.