سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کینسر کی تشخیص کے چند روز بعد پیر کو ایک جذباتی پیغام میں عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس بیماری کے جذباتی اثرات پر بات کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ پیغام میں بائیڈن نے لکھا ”کینسر ہم سب کو کسی نہ کسی طرح چھو جاتا ہے۔“ ”آپ میں سے بہت سوں کی طرح، جِل اور میں نے بھی یہ سیکھا ہے کہ ہم اکثر انہی جگہوں پر سب سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، جہاں ہم ٹوٹے ہوتے ہیں۔“ ”آپ کی محبت اور حمایت کے لیے شکر گزار ہوں، جس نے ہمیں سنبھالا۔“
یہ ٹویٹ صدر جو بائیڈن کی جانب سے اپنی کینسر کی تشخیص کے بعد پہلا عوامی ردعمل تھا، جو ہفتے کے آغاز میں سامنے آیا تھا۔ اگرچہ ابتدائی اعلان سرکاری ذرائع سے کیا گیا تھا، لیکن اتوار کے روز کیا گیا یہ پیغام زیادہ ذاتی اور جذباتی رنگ لیے ہوئے تھا، جو اُن لوگوں کے دلوں کو چھو گیا جو بائیڈن کی ذاتی زندگی میں صدمات، بیماری اور قربانیوں کے سفر سے واقف ہیں۔
بائیڈن کے الفاظ نے سوشل میڈیا پر جلد ہی مقبولیت حاصل کر لی اور ہزاروں افراد نے ہمدردی، یکجہتی اور خراجِ تحسین کے پیغامات کے ذریعے ان کا حوصلہ بڑھایا۔
سرکاری شخصیات، کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد اور عام امریکی شہریوں نے اُن کے پیغام پر ردِعمل دیا، جس سے یہ سادہ سا ٹویٹ قومی سطح پر حوصلے، صبر اور شفا کی علامت بن گیا۔
ہمدردانہ قیادت کے لیے پہچانے جانے والے سابق امریکی صدر جو بائیڈن طویل عرصے سے کینسر ریسرچ اور اس بیماری سے متاثرہ خاندانوں کی حمایت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کا اس مسئلے سے ذاتی تعلق اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب 2015 میں ان کے بیٹے بیو بائیڈن دماغ کے کینسر کے باعث چل بسے، ایک ایسا سانحہ جس نے بائیڈن کی عوامی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اگرچہ بائیڈن نے ٹویٹ کے علاوہ اب تک اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کی، لیکن ان کا مختصر اور پُراثر پیغام میڈیا میں بھرپور کوریج کا مرکز بن چکا ہے، اور اس نے کینسر ریسرچ میں مزید سرمایہ کاری کے لیے آوازوں کو ایک بار پھر توانا کر دیا ہے — ایک مشن جسے بائیڈن نے ”کینسر مون شاٹ“ جیسے اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا ہے۔
اب جبکہ سابق صدر نے علاج کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، ان کے الفاظ اس وقت بھی لوگوں کے دلوں کو چھو رہے ہیں، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ذاتی جدوجہد میں بھی ایسی طاقت چھپی ہوتی ہے جو دوسروں کو حوصلہ دے سکتی ہے۔
قبل ازیں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو جمعہ کے روز پیشاب کے مسائل کے بعد ایک شدید قسم کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی جو ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔ ان کے دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ 82 سالہ بائیڈن اور ان کا خاندان ڈاکٹروں کے ساتھ علاج کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بائیڈن کے دفتر نے مزید بتایا کہ “یہ مرض زیادہ شدید شکل میں ہے، مگر کینسر ہارمون حساس دکھائی دیتا ہے، جس سے مؤثر انتظام ممکن ہے۔“ہڈیوں تک پھیل جانے والا کینسر اسٹیج 4 شمار ہوتا ہے، جبکہ عام طور پر پروسٹیٹ کینسر ابتدائی مراحل میں تشخیص کیا جاتا ہے۔ امریکن سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق 2021 میں ہونے والی 236,659 تشخیصات میں سے 70 فیصد کینسر کے پھیلنے سے پہلے ہی پتہ چلا تھا اور 8 فیصد کی حالت ابتدائی مراحل سے گزری ہوئی تھی۔
بائیڈن کی طبی حالت نے ان کے صحت اور ذہنی تیزی کے حوالے سے شدید بحث کو جنم دیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ جولائی میں دوبارہ انتخاب سے دست برداری کا اعلان کیا تھا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل کو ٹروتھ سوشل پر اپنے ”والہانہ“ نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
نیو یارک یونیورسٹی لینگون کے یورولوجسٹ ڈاکٹر ہربرٹ لیپور کے مطابق گلیسن اسکور 9 ”بہت زیادہ خطرناک“ درجہ ہے، مگر انہوں نے امید دلائی کہ ”بہت سے مریض پانچ سے دس سال یا اس سے زیادہ زندگی گزار سکتے ہیں،“ کیوں کہ گزشتہ دہائی میں علاج کے متعدد جدید طریقے سامنے آئے ہیں۔ نارتھ ویسٹرن ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈاکٹر کرس جارج نے کہا کہ پھیل جانے والا پروسٹیٹ کینسر ناقابل علاج ہوتا ہے، مگر اسے کنٹرول میں لانے کے مؤثر علاج دستیاب ہیں۔
بائیڈن نے 2022 میں کینسر مون شوٹ پروگرام کو نئے سرے سے فعال کیا تھا تاکہ آئندہ 25 سال میں کینسر سے اموات میں کم از کم 50 فیصد کمی لائی جائے۔ ان کا خاندان پہلے ہی 2015 میں ان کے بیٹے بیو بائیڈن کو دماغی کینسر کی وجہ سے کھو چکا ہے۔ سابق نائب صدر کمیلا ہیرس نے کہا ہے کہ “جو(بائیڈن) ایک جنگجو ہیں اور زندگی بھر مضبوطی، لچک اور امید کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے، اسی جذبے سے اس مرض کا بھی مقابلہ کریں گے۔






















Comments
Comments are closed.