برطانوی حکومت ایک اقدام کے تحت پاکستان اور دیگر ایسے ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کی ویز درخواستوں پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے جن کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ پناہ گزینی کیلئے وہ سب سے زیادہ درخواستیں دینے والے ممالک میں شامل ہیں۔ حکومتی عہدیدار کے مطابق اس اقدام کا مقصد سالانہ بنیادوں پر نقل مکانی یا نیٹ مائیگریشن کی تعداد میں کمی لانا ہے۔
یہ اقدام ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹرز نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بطور سزا ووٹ نہ دیکر اپنے ردعمل ظاہر کیا۔ برطانوی شہری غیر قانونی امیگریشن اور دیگر مسائل پر اپنی حکومت سے نالاں ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت آئندہ ہفتے ایک پالیسی دستاویز شائع کرے گی، جسے وائٹ پیپر کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں یہ بتایا جائے گا کہ حکومت کس طرح نیٹ مائیگریشن کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تعداد گزشتہ برس جون تک 728،000 افراد تک پہنچ گئی تھی۔
برطانوی محکمہ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ امیگریشن وائٹ پیپر ہمارے منتشر امیگریشن سسٹم میں نظم و ضبط بحال کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا۔
قانونی طور پر مائیگریشن کی بلند سطح طویل عرصے سے برطانیہ کی سیاسی گفتگو پر غالب رہی ہے اور یہ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کی ایک بڑی وجہ بھی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے ایک لاکھ 8 ہزار افراد میں سے 16 ہزار کے پاس اسٹوڈنٹ ویزا تھا۔ حکومت نے ان افراد کی قومیتوں کی تفصیل جاری نہیں کی لیکن یہ واضح کیا ہے کہ پناہ گزینی کیلئے بیشتر درخواستیں ان افراد نے دیں جو ورک، اسٹوڈنٹ یا وزیٹر ویزے پر ملک میں داخل ہوئے۔
حکومتی بیان کے مطابق پاکستان، نائیجیریا اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے برطانیہ آنے کے بعد پناہ کی درخواستیں دینے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
گزشتہ ہفتے مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد پارٹی کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نیٹ مائیگریشن جیسے مسائل سے نمنٹنے کیلئے زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔
جو وائٹ، جو ماضی میں لیبر پارٹی کے گڑھ میں قانون سازوں کے ایک گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں، جنہیں ’ریڈ وال‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ’نرمی کا رویہ‘ ترک کردے۔






















Comments
Comments are closed.