اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد کمی کے فیصلے کے بعد کراچی انٹر بینک آفر ریٹ (کائیبور) کی شرح میں ایک ہفتے سے ایک سال کی مدت تک کیلئے کمی واقع ہوئی ہے۔
کائیبور وہ اوسط شرح سود ہے جس پر بینک ایک دوسرے کو قرض فراہم کرتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یومیہ بنیاد پر ایک ہفتے کی مدت 91 بیسس پوائنٹس (بی پی ایس) کی کمی سے 11.43 فیصد، دو ہفتے کی مدت کی شرح 87 بی پی ایس کی کمی سے 11.44 فیصد، ایک ماہ کی مدت 77 بی پی ایس کی کمی سے 11.47 فیصد، تین ماہ کی مدت کی شرح 75 بی پی ایس کی کمی سے 11.33 فیصد، چھ ماہ کی مدت 64 بی پی ایس کی کمی سے 11.44 فیصد ہو گئی۔
9 ماہ کی مدت کی شرح 73 بی پی ایس کی کمی کے بعد 11.53 فیصد رہی اور ایک سال کی مدت کی شرح 75 بی پی ایس کم ہوکر 11.51 فیصد ہوگئی۔
پیر کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کر دیا تھا اور یہ کمی مارکیٹ کی توقعات سے بھی زیادہ تھی۔
ایم پی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ مارچ اور اپریل کے دوران افراط زر میں تیزی سے کمی آئی جس کی بنیادی وجہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور غذائی افراط زر میں مسلسل کمی ہے۔
بیان کے مطابق اپریل میں مہنگائی بھی کم ہوئی جس کی بڑی وجہ گزشتہ برس زیادہ قیمتوں کا اثر اور کم مانگ تھی۔
مجموعی طور پر ایم پی سی نے اندازہ لگایا کہ افراط زر کا نقطہ نظر پچھلے تخمینے کے مقابلے میں مزید بہتر ہوا ہے۔
بیان کے مطابق، کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ عالمی سطح پر تجارتی محصولات اور جغرافیائی سیاسی حالات میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال معیشت کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس پس منظر میں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے متوازن مالیاتی پالیسی کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
مانیٹری پالیسی کے بعد بریفنگ میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اہم معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور بیرونی شعبہ بھی مستحکم ہو رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر سالانہ بنیادوں پر بہتر ہوئے ہیں، اگرچہ حالیہ ہفتوں میں قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے ان میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
گورنر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے لگائے گئے محصولات کا کیا اثر ہوگا، یہ ابھی واضح نہیں، اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آئندہ 90 دنوں میں کیا صورتحال تشکیل ہوتی ہے۔























Comments
Comments are closed.