امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر لگائے گئے اضافی درآمدی ٹیرف (محصولات) دنیا کی معیشت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ یہ ٹیرف ایسے وقت میں عائد کیے گئے ہیں جب عالمی معیشت آزاد اور پیش گوئی کے قابل تجارت پر انحصار کر رہی تھی۔ ان اقدامات نے بین الاقوامی کمپنیوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ کئی کمپنیوں نے اپنے منافع کے اندازے کم کر دیے ہیں، کچھ نے ملازمین کو فارغ کرنا شروع کر دیا ہے اور کئی نے اپنے کاروباری منصوبے بدلنے پر غور کیا ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاروباروں کو ہو رہا ہے۔ خاص طور پر وہ کمپنیاں جو چین سے سستی مصنوعات درآمد کرتی تھیں، اب اُنہیں بھاری ٹیرف ادا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
بیجنگ نے امریکہ کی 145 فیصد ٹیرف کی پیشکش پر مذاکرات کرنے کا اشارہ دیا ہے، لیکن خود بھی جواباً 125 فیصد ٹیرف لگا چکا ہے۔ امریکی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ مزید ٹیرف سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک ”طلب کا جھٹکا“ ہے، کیونکہ امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیاء مہنگی ہو رہی ہیں، جس سے خریداری کم ہو رہی ہے۔
اگرچہ کچھ ممالک جیسے بھارت کو فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں سے امریکی کمپنیاں اپنا کاروبار منتقل کر رہی ہیں، لیکن مجموعی طور پر عالمی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ مہنگائی کم ہونے سے مرکزی بینک شرح سود کم کر سکتے ہیں تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ دوسرے ممالک ان اقدامات کے جواب میں اپنی معیشتوں میں اصلاحات کرتے ہیں یا نہیں۔






















Comments
Comments are closed.