یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اتوار کے روز اسرائیل کی طرف داغا گیا ایک میزائل بین گوریون ایئرپورٹ کے قریب آ گرا، جو اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔ میزائل کے گرنے سے دھوئیں کے بادلوں نے اطراف کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت میں موجود مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے۔
اسرائیلی پولیس کے سینیئر افسر یائر ہیٹزرونی نے صحافیوں کو وہ گڑھا دکھایا جو میزائل کے گرنے سے بنا۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق میزائل ٹرمینل 3 کے قریب ایک سڑک کے کنارے، پارکنگ لاٹ کے قریب گرا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے پیچھے منظر دیکھ سکتے ہی،ں ایک بڑا گڑھا جو کئی میٹر چوڑا اور کئی میٹر گہرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیان میں کہا کہ جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، اسے سات گنا جواب دیا جائے گا۔ میزائل گرنے سے چند لمحے قبل تل ابیب سمیت وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔
رائٹرز کے ایک رپورٹر، جو اُس وقت ایئرپورٹ پر موجود تھے — جو تل ابیب اور یروشلم کے درمیان واقع ہے — نے بتایا کہ جیسے ہی سائرن بجے، مسافر محفوظ کمروں کی طرف دوڑنے لگے۔
ایئرپورٹ پر موجود کئی افراد نے اس واقعے کی ویڈیوز اپنے اسمارٹ فونز سے بنائیں، جن میں ایک سیاہ دھوئیں کا بادل واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا جو پارک کیے گئے طیاروں اور ایئرپورٹ کی عمارتوں کے پیچھے تھا۔ رائٹرز نے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کی۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ آٹھ افراد کو ہسپتال لے جایا گیا جن میں ایک شخص کو درمیانی درجے کی چوٹیں آئی تھیں جس کے ہاتھ پاؤں زخمی تھے اور دو خواتین سر کی چوٹوں کے ساتھ معمولی حالت میں تھیں۔
اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پروازیں اور لینڈنگز دوبارہ شروع ہو چکی ہیں اور بین گوریون ایئرپورٹ پر آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں حالانکہ ایئر ٹریفک کی بندش اور ایئرپورٹ تک جانے والی راستوں کی بلاک ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔
تاہم، بین گوریون کے لائیو ایئر ٹریفک سائٹ کے مطابق میزائل کے باعث پروازوں کا آپریشن متاثر ہوا۔
کئی پروازیں، بشمول ایئر انڈیا، ٹی یو ایس ایئر ویز اور لوفٹ ہانزا گروپ کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ دیگر پروازیں، بشمول امریکہ کے نیوارک اور جے ایف کے ایئرپورٹس کی پروازیں، تقریباً 90 منٹ تاخیر کا شکار ہوئیں۔
رائٹرز کے ایک رپورٹر نے دبئی جانے والی ایک پرواز پر سوار ہوئے جو وقت پر روانہ ہو رہی تھی۔
حوثی باغیوں پر امریکی حملے
حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حوثیوں کے ترجمان یحییسری نے ایئر لائنز کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ہوائی اڈہ اب فضائی سفر کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
حوثیوں کا میزائل حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مارچ میں باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا حکم دیے جانے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو کم کیا جا سکے اور انہیں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔
یمن کے بڑے حصوں پر قابض حوثیوں نے غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے ابتدائی دنوں کے دوران 2023 کے اواخر میں اسرائیل اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے زیر قیادت حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1،200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔
غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ساحلی علاقے کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
حوثی باغیوں نے مارچ کے وسط میں غزہ میں دو ماہ سے جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی اور غزہ میں اسرائیل کے ایک نئے حملے کے جواب میں اسرائیل میں اپنے اہداف کی رینج بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔
یمن میں سیکڑوں افراد کو ہلاک کرنے والے باغی گروپ کے خلاف امریکی حملے جنوری میں ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی آپریشن ہے۔






















Comments
Comments are closed.