مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے مہلک حملے کے بعد خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے گفتگو میں مطالبہ کیا کہ حملے کے ”منصوبہ سازوں، معاونین اور حملہ آوروں“ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے دونوں ممالک سے الگ الگ فون پر بات کی اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی۔ امریکہ نے بھارت کے انسداد دہشت گردی مؤقف کی حمایت کی اور پاکستان سے حملے کی تحقیقات میں تعاون پر زور دیا۔
دوسری جانب، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ پہلگام میں حملہ آوروں نے سیاحوں سے بھری ایک وادی میں ہندو مردوں کو علیحدہ کرکے قریب سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔
بھارت نے پاکستان پر حملے کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کی خودارادیت کی جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
اقوام متحدہ اور چین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ آزاد کشمیر کے صدر نے عالمی ثالثی کی اپیل کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
بھارتی بحریہ نے بحرِ عرب میں گجرات اور مہاراشٹرا کے ساحلوں پر مشقوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے فوج کو ”جواب دینے کا اختیار“ دے دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے فوجی کارروائی کا خدشہ موجود ہے۔























Comments
Comments are closed.