پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے کاروباری روز خریداری کا رحجان بحال ہوگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نہ صرف 808 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا بلکہ اس نے دن کے آغاز میں ہونے والی 1100 سے زائد پوائنٹس کی کمی پر بھی قابو پالیا۔
کے ایس ای 100 نے کاروبار کا آغاز منفی انداز میں کیا اور انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دورنا یہ کم ترین سطح 112,935.57 پوائنٹس تک گر گیا۔
تاہم، بعد کے گھنٹوں میں خریداری میں تیزی آئی جس سے انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 115,040.59 پوائںٹس تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 808.28 پوائنٹس یا 0.71 فیصد اضافے کے ساتھ 114,872.18 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ مارکیٹ کا رجحان بہتر ہوا کیونکہ مارجن سے متعلق فروخت میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں نے کم قیمت پر معیاری حصص خریدنا شروع کر دیے۔
ٹاپ لائن کے مطابق اس بحالی کو بنیادی طور پر اینگرو، ایم اے آر آئی، ایس وائی ایس، ایم سی بی اور ایس این جی پی جیسے اہم اسٹاک سے مدد ملی کیوں کہ ان شعبوں نے انڈیکس میں تقریبا 760 پوائنٹس کا مجموعی اضافہ کیا جو مارکیٹ کے محرکات پر ان کے مضبوط اثر کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو بینچ مارک انڈیکس 1405.45 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا تھا۔
پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے گزشتہ ہفتے سے اسٹاک مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔
عالمی سطح پر بھی منگل کے روز اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا، جب کہ امریکی ڈالر کئی سالوں میں اپنی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار تجارتی جنگ کے اثرات کو کمپنیوں کی آمدن اور اقتصادی اعداد و شمار میں دیکھنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف (ٹیرفز) عائد کیے جانے سے امریکی اثاثوں پر اعتماد متزلزل ہوا ہے، اور اگرچہ ابتدائی اپریل کی کمی کے بعد ایس اینڈ پی 500 نے اپنی زیادہ تر کھوئی ہوئی قدر بحال کر لی ہے، لیکن ڈالر اب تک کوئی بڑی بحالی نہیں دکھا سکا۔
ڈالر میں رات کے وقت اس وقت کمی آئی جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو بتایا کہ ٹیرف میں کمی ”اب چین پر منحصر ہے“، کیونکہ چین کے لیے امریکی برآمدات پر موجودہ ٹیرف 125 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
جاپان میں تعطیل کی وجہ سے ایشیائی کرنسی مارکیٹ میں سرگرمیاں سست رہیں۔ یورو 1.1409 ڈالر تک پہنچ کر اپریل میں 5 فیصد اضافہ کے ساتھ گزشتہ تقریباً 15 سال کی سب سے بڑی ماہانہ شرح نمو کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ ڈالر کی سوئس فرانک کے مقابلے میں 7 فیصد کمی ایک دہائی کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
نکئی اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے، کیونکہ حکام کی جانب سے آٹو موٹیو ٹیرف میں نرمی کے اشارے ملے ہیں، لیکن سرمایہ کار اب بھی چین پر عائد 145 فیصد امریکی ٹیرف میں کسی بڑی ریلیف کے منتظر ہیں۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپ کی قدر میں 0.02 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور روپیہ 5 پیسے اضافے کے بعد 281 روپے 2 پیسے پر بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 409.93 ملین رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 423.94 ملین تھا۔
تاہم حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 26.46 ارب روپے سے بڑھ کر 29.07 ارب روپے ہوگئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 29.47 ملین حصص کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد سنرجیکو پی کے 14.82 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور اطہر لمیٹڈ 14.77 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
منگل کو 445 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 211 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 183 میں کمی جبکہ 51 میں استحکام رہا۔




















Comments
Comments are closed.