بزنس ریکارڈ کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 4 بجلی گھروں کے لیے ڈالر سے منسلک قیمتوں کا نظام (ڈالر بیسڈ انڈیکسیشن) ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان پلانٹس میں حویلی بہادر شاہ، بلوکی، ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (این پی جی سی ایل) اور سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (سی پی جی سی ایل) پاور پلانٹس شامل ہیں۔
ان دانشمندانہ اقدامات کے نتیجے میں ان منصوبوں کی مکمل مدت کے دوران تقریباً 1.6 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے، جن میں صرف موجودہ مالی سال میں 22 ارب روپے کی بچت شامل ہے۔
نیپرا نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ یہ فیصلہ جمعرات کو اسلام آباد میں ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی عوامی سماعت میں کیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ ایک تاریخی قدم ہے، نیپرا نے ان بجلی گھروں کے لیے ڈالر پر مبنی قیمتوں کا نظام ختم کرنے اور اس کی جگہ مکمل منصوبے کی مدت کے لیے روپے میں طے شدہ قیمتوں کا نظام اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اسٹریٹجک تبدیلی کا مقصد زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرنا اور صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کو محدود کرنا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق مزید اصلاحات میں آپریشنز اینڈ مینٹیننس (او اینڈ ایم) اخراجات کی انڈیکسیشن کو روپے کی قدر میں کمی کے 70 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے جو پہلے 100 فیصد تھی۔ مقامی او اینڈ ایم اخراجات کو اب یا تو 5 فیصد یا نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس (این سی پی آئی) کے 12 ماہ کے اوسط سے منسلک کیا جائے گا یا پھر جو بھی شرح کم ہو اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
نیپرا نے سرمایہ کاری پر منافع (آر او ای) کے ڈھانچے کو بھی متوازن کرنے کا اعلان کیا۔
بیان کے مطابق اب بجلی گھروں کو آر او ای کا 35 فیصد مقررہ طور پر ملے گا، جبکہ باقی 65 فیصد بجلی گھر کی اصل کارکردگی سے براہ راست منسلک ہوگا — جو پہلے کے 100 فیصد ضمانت شدہ آر او ای ماڈل میں ایک اہم تبدیلی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دانشمندانہ اقدامات کے نتیجے میں ان منصوبوں کی مکمل مدت کے دوران تقریباً 1.6 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے، جن میں صرف موجودہ مالی سال میں 22 ارب روپے کی بچت شامل ہے۔



















Comments
Comments are closed.