ڈی ایچ ایل ایکسپریس، جو جرمنی کی کمپنی ڈوئچے پوسٹ کا ذیلی ادارہ ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل سے امریکہ میں انفرادی صارفین کو بھیجی جانے والی ایسی بین الاقوامی ترسیلات، جن کی مالیت 800 ڈالر سے زیادہ ہو، عارضی طور پر معطل کر رہا ہے۔ اس اقدام کی وجہ امریکی کسٹمز کے ضوابط میں حالیہ تبدیلیاں ہیں جن کے باعث کلیئرنس کا عمل مزید طویل ہوگیا ہے۔
یہ اعلان کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود ہے، اگرچہ اس پر تاریخ درج نہیں، لیکن اس کے میٹا ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اطلاع ہفتہ کے روز تیار کی گئی۔
ڈی ایچ ایل نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ میں کسٹمز کے نئے قواعد کے مطابق، اب 800 ڈالر سے زائد کی تمام ترسیلات کے لیے فارمل انٹری پروسیسنگ لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ حد 2,500 ڈالر تھی۔ یہ تبدیلی 5 اپریل سے نافذ العمل ہے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کاروباری اداروں کے لیے کی جانے والی ترسیلات معطل نہیں کی جا رہیں، تاہم انہیں بھی ممکنہ تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، 800 ڈالر سے کم مالیت کی ترسیلات — خواہ وہ کاروبار کے لیے ہوں یا صارفین کے لیے — ان ضوابط سے متاثر نہیں ہوں گی۔
ڈی ایچ ایل کے مطابق یہ معطلی عارضی ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈی ایچ ایل نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ ہانگ کانگ سے امریکہ بھیجی جانے والی ترسیلات کو نئے امریکی کسٹمز قواعد و ضوابط کے مطابق پروسیس کرے گا، اور اپنے صارفین کے ساتھ مل کر انہیں متوقع تبدیلیوں کے لیے تیار کرے گا، جو 2 مئی سے نافذ ہوں گی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہانگ کانگ پوسٹ نے سمندری راستے سے امریکہ کے لیے بھیجی جانے والی اشیاء کی ترسیل معطل کر دی تھی، اور امریکہ پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ واشنگٹن نے چین اور ہانگ کانگ سے آنے والے پیکجز کے لیے ٹیرف فری سہولیات ختم کر دی ہیں۔



















Comments
Comments are closed.