BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

چینی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چینی وزیر تجارت وانگ وین ٹاؤ نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے سربراہ کو بتایا دیا ہے کہ امریکی محصولات (ٹیکس) غریب ممالک کو سنگین نقصان پہنچائیں گے۔

وانگ نے ڈبلیو ٹی او کے سربراہ نگوزی اوکونجو ایولا کو جمعے کے روز ایک ٹیلی فونک گفتگو میں مطلع کیا ہے کہ امریکی ’دوطرفہ محصولات‘ ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کو سنگین نقصان پہنچائیں گے اور یہاں تک کہ انسانی بحران کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔

وانگ نے مزید کہا کہ امریکہ نے مسلسل محصولات کے اقدامات متعارف کرائے ہیں جس سے دنیا بھر میں بے پناہ غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام پیدا ہوا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کے اندر بھی افرا تفری کا باعث بنے ہیں۔

بیجنگ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکی مصنوعات پر اس کے 125 فیصد محصولات کا اطلاق ہفتے سے ہوگا جو امریکہ میں داخل ہونے والی چینی مصنوعات پر واشنگٹن کی جانب سے عائد کیے گئے 145 فیصد محصولات کے برابر ہے۔

تاہم، چین نے اشارہ دیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے مزید محصولات کو نظرانداز کرے گا، کیونکہ بیجنگ کے مطابق اب درآمد کنندگان کے لیے امریکہ سے خریداری کرنا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں رہا۔

چین نے یہ بھی کہا کہ وہ محصولات کے تازہ ترین دور پر ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ دائر کرے گا۔

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ایک ہفتے کے بعد بیجنگ نے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی حکمت عملی کو ’مذاق‘ اور ’اعداد و شمار کا کھیل‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

بیجنگ کی جوابی کارروائی نے مارکیٹ میں تازہ اتار چڑھاؤ کو جنم دیا ہے، اسٹاک میں تیزی ، سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی حکومت کے بانڈز دباؤ میں رہے۔

Comments

Comments are closed.