خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی، واضح رہے کہ دوسرے ہفتے بھی تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے بارے میں خدشات ہیں کہ یہ خام تیل کی کھپت کو متاثر کرے گی کیونکہ ان کے اختلافات معاشی ترقی کو سست کررہے ہیں۔
برینٹ فیوچر 31 سینٹ، 0.5 فیصد کی کمی سے 63.02 ڈالر فی بیرل جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچر 36 سینٹ یا 0.6 فیصد کی کمی سے 59.71 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک جمعرات کو 2 ڈالر سے زیادہ کی کمی کے ساتھ بند ہوئے۔
رواں ہفتے برینٹ کی قیمت میں 4 فیصد کمی متوقع ہے جو پچھلے ہفتے کی 11 فیصد کمی میں مزید اضافہ کریگا جب کہ ڈبلیو ٹی آئی تیل 3.8 فیصد تک گرنے کیلئے تیار ہے جبکہ پچھلے ہفتے اس میں 11 فیصد کمی ہوئی تھی۔
امریکہ اور چین کے درمیان طویل تجارتی تنازعے سے عالمی تجارتی حجم میں کمی اور تجارتی راستوں میں خلل پڑنے کا امکان ہے جو آخرکار عالمی اقتصادی ترقی پر منفی اثر ڈالے گا۔
دنیا کے دو سب سے بڑے تیل کے صارفین ہونے کے ناطے اس کا خام تیل کی کھپت پر بھی اثر پڑے گا۔
اے این زیڈ کے سینیئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہینس نے جمعہ کو ایک نوٹ میں کہا کہ عالمی اقتصادی سست روی کے بارے میں جاری خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں دباؤ میں آ گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر عالمی اقتصادی ترقی 3 فیصد سے کم ہوتی ہے تو تیل کی کھپت میں ایک فیصد کمی آئے گی۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف ٹیرف 145فیصد تک بڑھا دیے، حالانکہ بدھ کو انہوں نے کئی تجارتی شراکت داروں پر بھاری ٹیرف میں عارضی وقفہ دینے کا اعلان کیا تھا۔
چین نے بدلے میں امریکی سامان پر اضافی درآمدی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے، جس سے امریکی سامان پر ٹیرف 84 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن) نے جمعرات کو عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئیاں کم کیں اور انتباہ کیا کہ ٹیرف تیل کی قیمتوں پر شدید اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ اس نے اس سال اورآئندہ سال کے لیے امریکہ اور عالمی تیل کی طلب کی پیش گوئیاں کم کردی ہیں۔




















Comments
Comments are closed.