روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم دنیا کے دوسرے سب سے بڑے صارف چین میں ایندھن کی طلب کے بارے میں خدشات اور عالمی سطح پر تیل سرپلس کی پیش گوئیوں نے مارکیٹوں پر دباؤ ڈالا۔
برینٹ کروڈ فیوچر 20 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے سے 71.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 9 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 67.11 ڈالر فی بیرل رہی۔
دو امریکی عہدیداروں اور اس فیصلے سے واقف ذرائع نے اتوار کے روز کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے تنازعمیں واشنگٹن کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یوکرین کو روس میں داخل ہونے کے لیے امریکی ساختہ ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
کریملن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر عائد حدود نرم کی جاتی ہیں تو اسے بڑی شدت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے کہا کہ بائیڈن نے یوکرین کو کرسک کے آس پاس روسی افواج پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے جس سے تیل میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ شمالی کوریا کے فوجیوں کے میدان میں داخل ہونے کے جواب میں وہاں کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔
روس نے اتوار کو یوکرین پر تقریبا 3 ماہ میں اپنا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس سے یوکرین کے بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔
ذرائع کے مطابق روس میں کم از کم تین ریفائنریوں کو برآمدی پابندیوں، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے بھاری نقصانات کی وجہ سے پروسیسنگ روکنی پڑی ہے یا کام میں کٹوتی کرنی پڑی ہے۔
گزشتہ ہفتے چین کے کمزور اعداد و شمار اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی پیش گوئی کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں 3 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد کہ اوپیک پلس کی جانب سے کٹوتی برقرار رہنے کے باوجود 2025 میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی طلب سے 10 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ ہوجائے گی۔
چین کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر میں چین کی ریفائنری کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی رفتار اور حد سے بھی پریشان ہیں جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔
بیکر ہیوز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں، آپریٹنگ آئل رگوں کی تعداد گزشتہ ہفتے ایک کم ہوکر 478 ہوگئی، جو 19 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سے سب سے کم ہے.



















Comments
Comments are closed.