BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Increased By (0.11%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.77 Increased By ▲ 0.30 (0.53%)
BIPL 24.87 Increased By ▲ 0.24 (0.97%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.62%)
DFML 17.94 Increased By ▲ 0.45 (2.57%)
DGKC 187.81 Increased By ▲ 0.59 (0.32%)
FABL 93.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
FCCL 51.70 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.49 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 303.50 Decreased By ▼ -0.28 (-0.09%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.93 Increased By ▲ 0.08 (0.81%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.40 Increased By ▲ 0.23 (0.88%)
MLCF 90.85 Decreased By ▼ -0.38 (-0.42%)
OGDC 314.37 Increased By ▲ 0.98 (0.31%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
PIBTL 14.73 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 238.05 Decreased By ▼ -1.57 (-0.66%)
PPL 220.90 Decreased By ▼ -0.46 (-0.21%)
PRL 91.59 Increased By ▲ 0.37 (0.41%)
SNGP 90.85 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.13%)
TPLP 12.68 Increased By ▲ 0.12 (0.96%)
TRG 55.84 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کے آئینی بنچوں کیلئے ججز کی نامزدگی اور جے سی پی سیکرٹریٹ کے قیام پر غور کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 5 نومبر کو طلب کرلیا۔

اجلاس میں سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر سید شبلی فراز ، ایم این اے شیخ آفتاب احمد، ایم این اے عمر ایوب خان اور روشن خورشید بھروچا شرکت کرینگے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار، جو کمیشن کے سکریٹری ہیں، نے سبھی ممبروں کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔

21 اکتوبر 2024 کو صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کی جانب سے اہم ترامیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کی تھی۔

آئین کی مختلف شقوں میں ترامیم کی گئیں۔ نئے ترمیم شدہ آرٹیکل 175 اے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں جج کی تقرری کے لیے 13 رکنی عدالتی کمیشن کام کرے گا جس میں چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز، آئینی بینچوں کے سب سے سینئر جج، وزیر قانون، اٹارنی جنرل برائے پاکستان، پاکستان بار کونسل کا ایک نامزد رکن، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو، دو ارکان اور پارلیمنٹ سے باہر کی ایک خاتون یا غیر مسلم شامل ہوں گے۔

توسیع شدہ کمیشن اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرے گا، اس اقدام کو وسیع پیمانے پر عدالتی اصلاحات کی جاری کوششوں کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد عدلیہ میں شفافیت اور نمائندگی کو بڑھانا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.