اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس تقریباً 1500 پوائنٹس گر گیا
- بینچ مارک 100 انڈیکس 1,494.09 پوائنٹس یا 0.85 فیصد کمی کے بعد 173,885.77 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کئی روز کی تیزی کے بعد جمعہ کو فروخت کا دباؤ واپس آ گیا، جس کے نتیجے میں کاروباری ہفتے کے آخری روز پہلے سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1,500 پوائنٹس گر گیا۔
دوپہر 12 بجے بینچ مارک 100 انڈیکس 1,494.09 پوائنٹس یا 0.85 فیصد کمی کے بعد 173,885.77 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے ایک پوسٹ میں کہا کہ حالیہ تیزی کے بعد آج مارکیٹ میں منافع کے حصول کے لیے حصص کی فروخت کا رجحان دیکھنے میں آ سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار طویل تعطیلات سے قبل اپنا منافع محفوظ کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور جاری امن مذاکرات میں بظاہر تعطل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرنے اور مارکیٹ میں محتاط رویہ برقرار رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔
معاشی محاذ پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ کے ذخائر 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 39 ملین ڈالر اضافے سے 21.56 ارب ڈالر ہو گئے۔
دریں اثنا، عالمی بینک کے مطابق 2025 میں پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 4 فیصد اضافے سے 135.1 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان کے ذمے واجب الادا قرضے عوامی اور حکومت کی ضمانت یافتہ بیرونی قرضوں کا زیادہ تر حصہ ہیں۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ جاری رہا تھا، جس کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے خطرات سے متعلق بہتر ہوتے رجحان کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری تھی۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,366.38 پوائنٹس یا 1.96 فیصد اضافے کے بعد 175,379.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیا کی ٹیکنالوجی پر مبنی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ ضابطہ جاتی نگرانی میں اضافے کے خدشات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے کا اندیشہ تھا، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں اپریل 2025 کے ٹیرف سے متعلق لبریشن ڈے کی شدید مندی کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 8 فیصد سے زیادہ گرنے کے بعد کاروبار میں عارضی تعطل کا نظام (سرکٹ بریکر) فعال ہو گیا۔ کاروبار دوبارہ شروع ہونے کے بعد انڈیکس میں آخری اطلاعات کے مطابق 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کا نکئ انڈیکس 6 فیصد گر گیا، جبکہ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ میں آخری اطلاعات کے مطابق 8 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔
وال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں کے خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے بڑھ گیا۔ نیس ڈیک 5.5 فیصد گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں شامل کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ مالیت سے 3 کھرب ڈالر کم ہو گئے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ رواں ہفتے وسط مدتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیموکریٹس مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کو محدود کر سکتے ہیں۔
سیاسی بے یقینی ایسے وقت میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں سرمایہ کاری کے رجحان کو متاثر کر رہی ہے جب اس ٹیکنالوجی پر خرچ کی جانے والی خطیر رقوم کے مقابلے میں سرمایہ کاری پر منافع کے حوالے سے خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔
مارکیٹ کے شرکا کے مطابق جنوبی کوریا، تائیوان اور جاپان میں چِپ بنانے والی کمپنیاں اور ڈیٹا سینٹرز کے آلات فراہم کرنے والے ادارے اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے حصص بدھ اور جمعرات کو بھی پہلے ہی شدید گراوٹ کا شکار ہو چکے تھے۔
مصنوعی ذہانت کے لیے چِپس بنانے والی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص تقریباً 10 فیصد گر گئے، جبکہ ایس کے ہائینکس کے حصص میں 11.7 فیصد کمی ہوئی۔ کیوکسیا کے حصص 14 فیصد گر گئے، جبکہ ٹی ایس ایم سی کے حصص کی قیمت 8.5 فیصد کم ہو گئی۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے سافٹ بینک گروپ کے حصص بھی 11 فیصد گر گئے، جبکہ جمعہ کو سافٹ بینک کے قرض کی عدم ادائیگی کے خطرے کے خلاف بیمہ کی لاگت گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
یورپی اسٹاک مارکیٹوں کے فیوچرز میں 1 فیصد کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حصص کی فروخت کا دباؤ یورپی منڈیوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔


Comments