BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

اسلام آباد میں احتجاج روکنے کے اقدامات، کراچی میں مال بردار کنٹینرز کے ڈھیر لگ گئے

  • حکام نے تقریباً 5 ستمبر سے گاڑیوں کو روکنا شروع کردیا تھا، رانا اسلم
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے اقدامات کے باعث ملک کی مرکزی بندرگاہ کراچی میں مال بردار کنٹینرز جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز پولیس کی جانب سے گاڑیاں ضبط کیے جانے کے خدشے کے باعث پنجاب سمیت شمالی علاقوں کی جانب سفر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد سابق وزیراعظم کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا۔

کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے تقریباً 5 ستمبر سے گاڑیوں کو روکنا شروع کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانے والی سڑکوں پر کئی ہفتوں سے ریت سے بھرے اور آپس میں ویلڈ کیے گئے فولادی کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں تاکہ احتجاج کے شرکا کا راستہ روکا جاسکے۔

رانا اسلم نے کہا کہ یہ احتجاج روکنے کا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق ستمبر میں مارچ سے قبل پولیس نے 2,000 سے زائد گاڑیاں اپنی تحویل میں لیں، جن میں سے متعدد سامان سے لدی ہوئی تھیں اور انہیں کئی روز تک روک کر رکھا گیا، جبکہ مالکان کو بہت کم یا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔

ان اقدامات سے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک جانے والی مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ بعض ٹرانسپورٹرز نے گوجرانوالہ سے آگے سفر روک دیا ہے، جبکہ کچھ متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔

رانا محمد اسلم کے مطابق کنٹینر ضبط ہونے کی صورت میں یومیہ کھڑے رہنے کے اخراجات 30,000 سے 40,000 روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سامان کی تاخیر سے ترسیل اور ٹرکوں کے غیر استعمال شدہ رہنے سے بھی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں تاخیر کی وجہ سے قطع نظر ادائیگی کا تقاضا کرتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹرز پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کا اشاریہ 27.43 فیصد بڑھا۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ بھی احتجاج کرسکتے ہیں۔

Comments

200 حروف