طیاروں، بحری جہازوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کردی گئی
- پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کی درآمد بھی 2021 میں استثنیٰ واپس لیے جانے تک سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھی۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان میں رجسٹرڈ تمام ایئرلائن کمپنیوں کے لیے طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد یا لیز پر سیلز ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کردی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے پیر کو فیلڈ فارمیشنز کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق ایس نمبر 181 اے کے اضافے کے ذریعے پاکستان میں رجسٹرڈ ایئرلائن کمپنیوں کے لیے طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد یا لیز پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔
پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کی درآمد بھی 2021 میں استثنیٰ واپس لیے جانے تک سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھی۔ بحری جہازوں کی درآمد اور جہاز سازی کے لیے پلانٹ، مشینری اور دیگر کیپٹل اثاثہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنیٰ بحال کردیا گیا ہے۔
اس وقت کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس ایئر ٹکٹس پر فی ٹکٹ مقررہ وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے، جو بہت زیادہ شرح پر وصول کی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں ٹکٹ کی قیمت سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ ایف بی آر نے مزید کہا کہ ایکسائز ڈیوٹی کو شمالی امریکا کے لیے 50,000 روپے، مشرق وسطیٰ کے لیے 25,000 روپے، یورپ کے لیے 40,000 روپے جبکہ مشرق بعید اور آسٹریلیا کے لیے 40,000 روپے مقرر کرکے معقول بنادیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments