BR100 Increased By (0.17%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Increased By (0.19%)
KSE30 Increased By (0.22%)
BAFL 57.03 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.45 Increased By ▲ 0.10 (0.33%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 16.76 Increased By ▲ 0.86 (5.41%)
DGKC 192.99 Increased By ▲ 0.54 (0.28%)
FABL 94.16 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
FCCL 52.85 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
FFL 14.80 Increased By ▲ 0.08 (0.54%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.00 Increased By ▲ 0.90 (0.29%)
HUBC 201.99 Increased By ▲ 0.57 (0.28%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.31 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
OGDC 315.99 Decreased By ▼ -0.74 (-0.23%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.97 Increased By ▲ 0.29 (1.98%)
PIOC 243.74 Increased By ▲ 0.53 (0.22%)
PPL 226.11 Decreased By ▼ -0.80 (-0.35%)
PRL 93.46 Increased By ▲ 0.44 (0.47%)
SNGP 91.53 Decreased By ▼ -0.31 (-0.34%)
SSGC 23.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.82 Increased By ▲ 0.26 (0.46%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
مارکٹس

ای پی زیڈز کی مقامی فروخت پر پابندی، حکومت آئی ایم ایف کو قائل کرنے میں ناکام

  • آئی ایم ایف نے ای پی زیڈز کو اپنی پیداوار کا 20 فیصد تک مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی سہولت محدود کرنے کی شرط عائد کی ہے، سیف انجم
شائع اپ ڈیٹ

حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) سے مقامی مارکیٹ میں مصنوعات کی فروخت پر پابندی کی شرط واپس لینے پر قائل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، تاہم معاملہ رواں ماہ کے آخر میں آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے کے دوران دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ای پی زیڈز کو اپنی پیداوار کا 20 فیصد تک مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی سہولت محدود کرنے کی شرط عائد کی ہے۔ پاکستان نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت ستمبر 2026 تک اس شرط پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ای پی زیڈز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نظام میں موجود تضادات ختم کرکے مختلف شعبوں کو یکساں ٹیکس نظام کے تحت لایا جاسکے۔

سیف انجم نے کہا کہ ای پی زیڈز میں قائم صنعتوں کو پیداوار کا کچھ حصہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دینے سے مقامی مارکیٹ میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ برآمدی صنعتوں کے لیے اہم سہارا ہے۔ ان صنعتوں سے تقریباً 800 ملین ڈالر کی برآمدات حاصل ہوتی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور آئی ایم ایف عدالتی کارروائی میں مداخلت نہیں کررہا، تاہم حکومت کو معاملہ آگے بڑھانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ ایس ای زیڈز کے حوالے سے حکام نے کہا کہ 2035 تک کافی وقت موجود ہے اور موجودہ انتظامات ختم کرنے یا ان میں بہتری لانے کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا کہ ای پی زیڈز میں صنعتوں کے لیے موجودہ 80/20 سہولت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سہولت ختم کرنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر، بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں متاثر اور متعدد صنعتی یونٹس بند ہوسکتے ہیں۔

تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ ای پی زیڈز اور ایس ای زیڈز کو نقصان سے بچایا جائے اور پاکستان کے صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ دوبارہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

اجلاس میں کاروباری اوقات کی بحالی، برآمد کنندگان کو بینکنگ معاملات میں درپیش مشکلات، بیٹری انرجی پالیسی، قومی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ابتدائی طور پر 3,000 ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے 3 ارب روپے کی وائبیلٹی گیپ فنڈنگ دستیاب ہے۔

کاروباری اوقات بڑھانے کی تجویز پر پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس کے لیے اضافی 600 میگاواٹ بجلی درکار ہوسکتی ہے، جبکہ ایچ ایس ڈی یا فرنس آئل پلانٹس سے پیداوار کی صورت میں بجلی کی فی یونٹ لاگت تقریباً 5 روپے بڑھ سکتی ہے۔ کمیٹی نے معمول کے کاروباری اوقات بتدریج بحال کرنے اور ابتدائی طور پر مارکیٹ بندش کے موجودہ وقت میں کم از کم 30 منٹ اضافے کی سفارش کی۔

حکام نے مزید بتایا کہ ملک میں اس وقت صرف ایک دن کا آر ایل این جی اسٹاک موجود ہے، اس لیے کاروباری اوقات میں توسیع کو دستیاب بجلی، ایندھن کے ذخائر اور مجموعی پاور سپلائی صورتحال سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف