ایران کا متحدہ عرب امارات، اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- حملے آبنائے ہرمز میں جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں کیے گئے، ایرانی فوج
جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد ایران نے پیر کو کہا کہ اس نے متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں ایک ایئربیس پر موجود امریکی فوج کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے کہا کہ تہران نے متحدہ عرب امارات کے العدید ایئربیس پر ان علاقوں کو درجنوں حملہ آور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا جہاں امریکی ہیلی کاپٹرز اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ فوج کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں کیے گئے۔
ایک الگ بیان میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن میں امریکا کے زیرِ استعمال کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز پر تکنیکی تنصیبات، مرمت کی سہولیات اور دشمن کے لڑاکا طیاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان ہوا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ حملہ امریکی فورسز کی جانب سے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کیا گیا۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک میں بھی حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ایران جنگ اب چھ ماہ کا عرصہ مکمل کرچکی ہے۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔
اس تنازع میں امریکا کے 18 فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔


Comments