پٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت، ای سی سی کی جانب سے پی ایس او اور عمان کی او کیو کے درمیان معاہدے کی منظوی کا امکان
- مارچ میں عمان کی بندرگاہوں سے پیٹرول کے 3 اور ڈیزل کا ایک کارگو درآمد کیا گیا
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) اور عمان کی او کیو ٹریڈنگ لمیٹڈ کے درمیان پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور خریداری کے معاہدے کی منظوری دینے کا امکان ہے۔
مارچ میں پی ایس او اور عمان ٹریڈنگ انٹرنیشنل کے درمیان پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی تیل کارگو فراہم کرنے کے امکانات پر تعمیری بات چیت ہوئی تھی۔
مارچ میں عمان کی بندرگاہوں سے پیٹرول کے 3 اور ڈیزل کا ایک کارگو درآمد کیا گیا، جبکہ رواں ماہ عمان کی بندرگاہوں سے پیٹرول کے مزید 2 کارگو درآمد کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان میں سلطنت عمان کے سفیر فہد بن سلیمان بن خلف الخروصی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی توانائی کی صورتحال اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان دیرینہ، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جن کی بنیاد مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر ہے۔ انہوں نے دوطرفہ توانائی شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے سفیر کو توانائی کی درآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں اور ذرائع تلاش کرنے پر بھی زور دیا۔
سفیر نے توانائی کے ذرائع میں تنوع کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عمان پاکستان کی توانائی سلامتی بہتر بنانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ عمان پاکستان کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر توانائی کارگو فراہم کرنے کی درخواست پر غور کرے گا۔ سفیر نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے یقین دلایا کہ درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔
ملاقات میں اپ اسٹریم شعبے، بشمول تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار، میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے تیل و گیس کے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون مزید گہرا کرنے اور باہمی مفاد کے لیے اسٹریٹجک تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دریں اثنا، اقتصادی رابطہ کمیٹی آج پیر کو پاسکو کے گندم ذخائر تمام متعلقہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کی بنیاد پر فراہم کرنے کی تجویز پر غور کرے گی۔ یہ معاملہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے پیش کیا ہے۔
ایجنڈے میں ایک اہم معاملہ پی آئی اے کے دعووں اور الگ کی گئی ذمہ داریوں کے تصفیے کے لیے درکار فنڈز بھی شامل ہیں، جو وزارت دفاع نے کمیٹی کے سامنے رکھا ہے۔ کمیٹی روزویلٹ ہوٹل سے متعلق آئی سی ایوارڈ 2025 اور این بی پی کی جانب سے 43.849 ارب روپے تک کی ٹرم فسیلٹی کے معاملے پر بھی غور کرے گی۔
ای سی سی گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم ( کے فور) کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز کے مقابل بجٹ میں مالی گنجائش پیدا کرنے کے لیے 7.797 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی تجویز بھی زیر غور لائے گی۔
ایجنڈے میں ریکوڈک منصوبے کے سکیورٹی اخراجات کی ادائیگی کے لیے ہیڈکوارٹر فرنٹیئر کور بلوچستان (جنوبی) کو 567.032 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ای سی سی مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی مختص فنڈز کے تحت آٹومیشن آف پوسٹ آفس منصوبے کے لیے فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی درخواست کا بھی جائزہ لے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments