خلیجی ممالک کو برآمدات کی ترسیل، حکومت مختلف آپشنز پر غور کرنے لگی
- پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز استعمال کرنے سمیت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے
پاکستان کی خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو برآمدات جولائی 2026 میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد کم ہوگئیں، جبکہ درآمدات میں بھی 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بحری راستوں میں مسلسل رکاوٹ کے باعث حکومت خلیجی ممالک کے لیے برآمدی سامان کی ترسیل کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز استعمال کرنے سمیت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق جولائی 2026 میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو پاکستانی برآمدات 9.5 فیصد کم ہوکر 144.6 ملین ڈالر رہیں، جو جولائی 2025 میں 159.8 ملین ڈالر تھیں۔ سعودی عرب کو برآمدات 20.5 فیصد کمی سے 42 ملین ڈالر، عمان کو 3.7 فیصد کمی سے 15.8 ملین ڈالر اور بحرین کو 50.8 فیصد کمی سے 2.3 ملین ڈالر رہیں۔
کویت کو برآمدات 7.4 فیصد کم ہوکر 7.4 ملین ڈالر جبکہ قطر کو 4.2 فیصد کمی سے 8.7 ملین ڈالر رہیں۔
خلیجی ممالک سے پاکستان کی درآمدات بھی 32.5 فیصد کم ہوکر ایک ارب ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ سال جولائی میں 1.4825 ارب ڈالر تھیں۔ یو اے ای سے درآمدات 34.2 فیصد، سعودی عرب سے 4.7 فیصد، بحرین سے 44.4 فیصد، کویت سے 92.8 فیصد اور قطر سے 96.1 فیصد کم ہوئیں۔ تاہم عمان سے درآمدات 67.7 فیصد اضافے سے 290.2 ملین ڈالر ہوگئیں۔
وزارت تجارت نے کمی کی بڑی وجہ جولائی میں امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سمندری سلامتی کی صورتحال خراب ہونے کو قرار دیا، جس سے عالمی شپنگ نیٹ ورکس شدید متاثر ہوئے۔
وزارت تجارت کے مطابق آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں روزانہ 70 سے 80 تجارتی جہاز گزرتے ہیں، تاہم کشیدگی کے دوران یہ تعداد کم ہوکر صرف 6 جہاز یومیہ رہ گئی اور سیکڑوں بحری جہاز آبنائے کے باہر لنگر انداز ہوگئے۔
وزارت تجارت نے مزید کہا کہ حوثی حملوں اور سعودی تیل تنصیبات کو لاحق خطرات کے باعث باب المندب میں سعودی روابط رکھنے والی شپنگ کو بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی بحری سرگرمیاں تقریباً رک گئیں اور جولائی میں پاکستانی برآمدات کا بڑا حصہ فضائی راستے سے منتقل کرنا پڑا۔
بحری تجارت کی بحالی کے لیے وزارت تجارت نے کراچی سے فجیرہ، خورفکان اور آبنائے ہرمز سے باہر عمانی بندرگاہوں تک براہ راست فیڈر شپنگ لنکس کو ترجیح دینے کی تجویز دی ہے۔
اس کے علاوہ گوادر سے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں تک کثیرالمقاصد مسافر و کارگو فیری سروسز کو تیزی سے فعال کرنے اور گوادر کو متبادل علاقائی تجارتی مرکز بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکومت مسلسل سمندری رکاوٹ کے دوران خلیجی منڈیوں سے برآمدی رابطہ برقرار رکھنے کے لیے پی این ایس سی کے جہاز استعمال کرنے کے آپشن کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments