امریکا ایران امن معاہدے کی امیدیں دھندلانے پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 36 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے سے 91.23 ڈالر فی بیرل ہوگئے
تیل کی قیمتیں منگل کو معمولی اضافے کے ساتھ مسلسل تیسرے سیشن میں بڑھیں، کیونکہ ایران کی جانب سے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کے اعلان اور واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع مسترد کیے جانے کے بعد امریکا ایران امن معاہدے کے امکانات مزید معدوم ہوگئے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 36 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے سے 91.23 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 56 سینٹ یا 0.66 فیصد اضافے سے 85.06 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یہ اعداد و شمار صبح 11:03 بجے امریکی مشرقی وقت (1503 جی ایم ٹی) کے ہیں۔ کاروبار کے ابتدائی حصے میں دونوں معاہدے بالترتیب 30 اور 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
امن مذاکرات میں پیش رفت اور اہم آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کا عمل رک گیا ہے، جس سے اس تنازع کے طول پکڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ جنگ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے منگل کو سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رکھے گا جب تک امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو پہلے ہی اس معاہدے کو ’’ختم‘‘ قرار دے چکے ہیں، نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کوئی مذاکرات طے ہیں، تاہم ان کے مطابق آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ ان کے اس بیان پر مارکیٹ کا ردعمل قدرے محتاط رہا۔
بروکریج فرم جیفریز کے ماہرِ معاشیات موہت کمار نے کہا، ’’ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جہاں ایران یا ٹرمپ کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ دباؤ محسوس کریں۔ لہٰذا ہمیں قلیل مدت میں مزید دباؤ اور تیل کی قیمتوں پر اضافی دباؤ کا امکان نظر آتا ہے۔‘‘
قالیباف کا یہ بیان ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے پیر کو رائٹرز کو دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے باعث ایران اپنی فوجی حکمتِ عملی کو ’’مکمل طور پر جارحانہ‘‘ رخ دے گا۔
ڈی بی ایس بینک کے شعبہ توانائی تحقیق کے سربراہ سورو سرکار نے کہا، ’’کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ ہونے سے رواں سال کی چوتھی سہ ماہی اور حتیٰ کہ 2027 میں بھی تیل کی قیمتوں کے امکانات متاثر ہوں گے۔‘‘
تاہم آبنائے ہرمز سے کچھ مقدار میں تیل کی ترسیل جاری ہے، اگرچہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اب بھی ایک ہندسے تک محدود ہے۔ سعودی آرامکو نے آبنائے ہرمز میں تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب جہاز سے جہاز میں منتقلی کے ذریعے تیل کے کارگو لوڈ کرنے کی پیشکش بھی کر رہی ہے۔
ایس ای بی کے تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے کہا، ’’جب ایران مناسب سمجھے، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر روکنا غالباً اسی کے اختیار میں ہے۔‘‘
ایران نے الگ سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک معاہدے پر بھی مذاکرات کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات کے ردعمل میں عمان پر بمباری کی دھمکی دے دی۔ عمان طویل عرصے سے امریکا کا سکیورٹی شراکت دار ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ کے ایک اور محاذ پر یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں میزائل حملہ کیا۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر بتایا کہ حملے میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں حوثی سعودی فوجی جہاز اور اس کے چار حفاظتی جہاز قرار دیتے ہیں۔


Comments