BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Increased By (0.52%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.32%)
BAFL 58.18 Increased By ▲ 0.02 (0.03%)
BIPL 27.30 Increased By ▲ 0.07 (0.26%)
BOP 34.85 Increased By ▲ 0.45 (1.31%)
CNERGY 12.81 Decreased By ▼ -0.30 (-2.29%)
DFML 18.58 Increased By ▲ 0.18 (0.98%)
DGKC 215.35 Increased By ▲ 1.69 (0.79%)
FABL 99.97 Increased By ▲ 0.41 (0.41%)
FCCL 58.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.1%)
FFL 16.32 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
GGL 24.23 Increased By ▲ 0.25 (1.04%)
HBL 332.12 Decreased By ▼ -6.04 (-1.79%)
HUBC 213.80 Increased By ▲ 0.44 (0.21%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.04 (0.38%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.04 (0.54%)
LOTCHEM 27.84 Increased By ▲ 0.17 (0.61%)
MLCF 102.75 No Change ▼ 0.00 (0%)
OGDC 320.60 Increased By ▲ 1.68 (0.53%)
PAEL 42.98 Decreased By ▼ -0.12 (-0.28%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 276.13 Increased By ▲ 3.13 (1.15%)
PPL 233.05 Increased By ▲ 3.60 (1.57%)
PRL 69.15 Decreased By ▼ -1.65 (-2.33%)
SNGP 103.75 Decreased By ▼ -0.83 (-0.79%)
SSGC 27.36 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.06 (0.7%)
TPLP 15.62 Decreased By ▼ -0.14 (-0.89%)
TRG 60.40 Increased By ▲ 0.11 (0.18%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

معتبر میزائل خطرے کے باعث ٹرمپ کا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا

  • یہ خطرہ ٹرمپ کے نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ کے دورے کے دوران کندھے سے داغے جانے والے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے خطرے کے پیش نظر خفیہ طور پر ایئر فورس ون سے ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔

معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ یہ خطرہ ٹرمپ کے نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا، جب ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔ امریکی سیکرٹ سروس نے خطرے کو قابلِ اعتبار اور فوری قرار دیا، جس کے بعد امریکی صدر کی نقل و حرکت خفیہ رکھنے کے لیے غیرمعمولی آپریشن کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کے چند معاونین نے 8 جولائی کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے بڑی نیلی اور سفید صدارتی طیارے سے خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے C-32A طیارے میں منتقلی کی۔ ایئر فورس ون الگ روانہ ہوا، جس میں اعلیٰ امریکی حکام، وائٹ ہاؤس کا عملہ اور صحافی سوار تھے۔

ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ سیکرٹ سروس کی ہدایت پر انہوں نے طیارہ تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طیارے میں وہ سفر کر رہے تھے، وہ شاید زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ حملہ آوروں کے لیے ممکنہ طور پر وہی زیادہ قابلِ ہدف ہوتا۔

ذرائع نے بتایا کہ خطرے کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا تھا بلکہ مخالف عناصر کی جانب سے صرف حملے کا ارادہ معلوم ہوا تھا۔ اسی وجہ سے دونوں طیاروں کو پرواز کی اجازت دی گئی۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ خطرہ جدید حرارت کا سراغ لگانے والے میزائل سے متعلق ہو سکتا ہے، جو طیارے کے گرم انجن کو نشانہ بناتے ہیں اور روایتی ریڈار سے چلنے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام کو یہ جان کر بھی تشویش ہوئی کہ ایرانی عناصر کو انقرہ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ اور ہوٹل کی منزل تک کا علم تھا۔

ترکیہ کے حکام نے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Comments

200 حروف