امریکا کا پاکستان کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر زور
- امریکی مہارت اور ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی پاکستان کو زرعی شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے، نٹالی بیکر
امریکا نے پاکستان کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، جہاں امریکی کمپنیوں کے لیے جدید زرعی طریقوں، آبپاشی کے نظام اور فوڈ پروسیسنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے یہ بات امریکی کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، پاکستانی حکومتی حکام اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ ایک براہ راست ویبینار کے دوران کہی۔
یہ سیشن بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ کے زیر اہتمام امریکی سفارتخانے اسلام آباد، امریکی محکمہ تجارت اور حکومت پاکستان کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
نٹالی بیکر نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی مہارت اور ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی پاکستان کو زرعی شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ دونوں ممالک کے لیے نئے کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ویبینار کے بعد سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بیکر نے کہا کہ امریکی کمپنیاں اپنی مہارت، ٹیکنالوجی اور کئی دہائیوں کے عملی تجربے کے ذریعے پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے پریسیژن ایگریکلچر مشینری، جدید آبپاشی نظام، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ ٹولز اور کولڈ چین لاجسٹکس جیسی ٹیکنالوجیز کا ذکر کیا، جن کے ذریعے امریکی کمپنیاں زرعی پیداوار اور وسائل کے بہتر انتظام میں معاونت کر سکتی ہیں۔
امریکی مشن کے مطابق زرعی اور متعلقہ مصنوعات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت نمایاں رہی ہے، جبکہ 2025 میں پاکستان کو امریکی زرعی برآمدات 1.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
پاکستانی شرکا نے امریکی زرعی مصنوعات، جن میں سویا بین، کپاس اور بیج شامل ہیں، کی درآمدات میں سہولت کے لیے پالیسی اور ضابطہ جاتی اقدامات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے زرعی مشینری، کنٹرولڈ ماحول میں ذخیرہ کاری، فوڈ پروسیسنگ، بیجوں کی تیاری اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
بیکر نے کہا کہ نئی منڈیوں میں داخل ہونے والی امریکی کمپنیاں صرف مصنوعات ہی نہیں بلکہ تکنیکی معلومات، تربیت اور طویل مدتی شراکت داری بھی فراہم کرتی ہیں۔
ویبینار میں امریکی محکمہ تجارت کے زیر اہتمام پاکستان کے لیے سرٹیفائیڈ ایگریکلچرل ٹیکنالوجیز ٹریڈ مشن کا بھی ذکر کیا گیا، جو 26 سے 30 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگا اور اس کی قیادت بی سی آئی یو کرے گا۔
بیکر نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی شعبے میں مواقع تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنا ایک بنیادی ترجیح ہے۔
تقریب میں وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو اور امریکی کاروباری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments