BR100 Increased By (0.61%)
BR30 Increased By (0.96%)
KSE100 Increased By (0.79%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 58.72 Increased By ▲ 1.03 (1.79%)
BIPL 26.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
BOP 33.60 Increased By ▲ 0.21 (0.63%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.15 (1.41%)
DFML 17.97 Increased By ▲ 0.22 (1.24%)
DGKC 211.30 Increased By ▲ 4.07 (1.96%)
FABL 100.95 Increased By ▲ 1.13 (1.13%)
FCCL 54.98 Increased By ▲ 0.92 (1.7%)
FFL 16.11 Increased By ▲ 0.04 (0.25%)
GGL 23.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.38%)
HBL 304.35 Increased By ▲ 3.05 (1.01%)
HUBC 218.95 Increased By ▲ 1.73 (0.8%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.19 (1.82%)
KEL 7.24 Increased By ▲ 0.05 (0.7%)
LOTCHEM 27.21 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 96.60 Increased By ▲ 1.01 (1.06%)
OGDC 315.80 Increased By ▲ 1.80 (0.57%)
PAEL 42.60 Increased By ▲ 0.48 (1.14%)
PIBTL 17.17 Increased By ▲ 0.16 (0.94%)
PIOC 273.48 Increased By ▲ 3.63 (1.35%)
PPL 216.85 Increased By ▲ 1.70 (0.79%)
PRL 59.49 Increased By ▲ 2.86 (5.05%)
SNGP 101.76 Increased By ▲ 0.84 (0.83%)
SSGC 25.44 Increased By ▲ 0.26 (1.03%)
TELE 8.43 Increased By ▲ 0.12 (1.44%)
TPLP 12.80 Increased By ▲ 0.07 (0.55%)
TRG 61.60 Decreased By ▼ -0.20 (-0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
پاکستان

پاکستان سعودی قیادت میں بحری دفاعی اتحاد میں شامل

  • یہ اقدام دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں کے لیے ایک نئے اجتماعی سکیورٹی نظام کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے 13 دیگر ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کی باضابطہ حمایت کر دی ہے، جس کا مقصد بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن کو بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مطابق مملکت مجوزہ اتحاد کی بانی اور قائد ریاست کے طور پر کردار ادا کرے گی جبکہ اتحاد کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ یہ اقدام دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں کے لیے ایک نئے اجتماعی سکیورٹی نظام کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس اقدام پر جمعرات کو سعودی وزارت دفاع کی میزبانی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں 43 ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان اور فوجی نمائندوں کے علاوہ سعودی عرب میں یورپی یونین کے وفد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت کے لیے مجموعی طور پر 51 ممالک اور تنظیموں کو مدعو کیا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد سعودی عرب، پاکستان، کویت، بحرین، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں مجوزہ اتحاد کی حمایت اور ابتدائی انتظامی امور کی منظوری کا اعلان کیا گیا۔

مجوزہ اتحاد کا مقصد تجارتی بحری جہازوں، تیل بردار ٹینکروں اور بحری تنصیبات پر حملوں کا مقابلہ کرنا ہے، کیونکہ ایسے خطرات آزادانہ بحری نقل و حرکت، عالمی سپلائی چین، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں اتحاد کے مسودہ چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور آپریشنل طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ رکنیت حاصل کرنے کے خواہش مند ممالک کے فوجی ماہرین اب اتحاد کے حتمی چارٹر اور تکنیکی فریم ورک کو مکمل کرنے کے لیے کام کریں گے۔

سعودی عرب نے اس اتحاد کو ایک کھلے بین الاقوامی دفاعی اقدام کے طور پر پیش کیا ہے اور دیگر ممالک کو بھی اپنے قومی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

یہ پیش رفت بحیرہ احمر اور اس سے ملحقہ بحری راستوں میں جہاز رانی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اتحاد کے قیام کو تیز کرنے اور ایک ایسے مربوط نظام کی تیاری کے عزم کا اظہار کیا گیا جو بحری خطرات کو روکنے اور عالمی جہاز رانی و تجارت کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف