امریکا ایران مذاکرات کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد کمی
- برینٹ خام تیل کے فیوچر 54 سینٹ یا 0.6 فیصد کمی کے بعد 87.82 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں میں عارضی وقفے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر 54 سینٹ یا 0.6 فیصد کمی کے بعد 87.82 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 66 سینٹ یا 0.8 فیصد گر کر 81.95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس سیشن کے آغاز میں ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک گر گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے اور تنازع کے حل کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایران نے بھی مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق فی الحال سفارتی حل کی امید نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کیا ہے اور سعودی تنصیبات پر حوثیوں کے ممکنہ حملوں سے متعلق خدشات بھی وقتی طور پر کم ہوئے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سعودی حمایت یافتہ حکومت کے نامزد وزیر خارجہ افرح الزوبہ نے کہا کہ حوثی باغی باب المندب میں بھی آبنائے ہرمز جیسا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ماریکس کے تجزیہ کار ایڈورڈ میئر نے کہا کہ اگرچہ حوثیوں کی مکمل ناکہ بندی نافذ کرنے کی صلاحیت مشکوک ہے، تاہم بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایشیا میں طلب میں کمی بھی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے والی ایک اہم وجہ ہے۔
ادھر بارکلیز کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی یومیہ خالص برآمدات 2.9 ملین بیرل رہیں، جو ایک ہفتہ قبل 5.9 ملین بیرل یومیہ تھیں۔ ابتدائی رائے شماری کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں کمی جبکہ ڈیزل سمیت دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافے کا امکان ہے۔


Comments