BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.64 Decreased By ▼ -0.40 (-0.64%)
BIPL 28.47 Increased By ▲ 0.44 (1.57%)
BOP 36.85 Increased By ▲ 0.08 (0.22%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.59 Increased By ▲ 0.66 (3.31%)
DGKC 226.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
FABL 101.56 Increased By ▲ 1.38 (1.38%)
FCCL 58.66 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 26.62 Increased By ▲ 1.42 (5.63%)
HBL 305.91 Increased By ▲ 0.27 (0.09%)
HUBC 233.61 Increased By ▲ 1.06 (0.46%)
HUMNL 11.28 Decreased By ▼ -0.14 (-1.23%)
KEL 8.24 Decreased By ▼ -0.05 (-0.6%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.91 (3.2%)
MLCF 107.17 Decreased By ▼ -1.12 (-1.03%)
OGDC 345.43 Increased By ▲ 6.33 (1.87%)
PAEL 45.39 Increased By ▲ 0.04 (0.09%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.56 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
PPL 248.71 Increased By ▲ 2.76 (1.12%)
PRL 36.29 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
SNGP 118.77 Increased By ▲ 0.07 (0.06%)
SSGC 31.37 Decreased By ▼ -0.30 (-0.95%)
TELE 9.21 Decreased By ▼ -0.06 (-0.65%)
TPLP 11.64 Increased By ▲ 0.41 (3.65%)
TRG 67.62 Decreased By ▼ -0.22 (-0.32%)
UNITY 10.93 Decreased By ▼ -0.08 (-0.73%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

اسحاق ڈار کا پاکستان اور ترکیہ کے سیاسی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر زور

  • ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس غیر معمولی سیاسی اور برادرانہ تعلق کو اتنی ہی متحرک اقتصادی شراکت داری میں ڈھالا جائے، وزیر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز پاکستان اور ترکیہ پر زور دیا کہ وہ اپنے دیرینہ سیاسی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو ایک مضبوط اور متحرک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحانات دونوں ممالک کے لیے مشترکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

استنبول میں منعقدہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ علاقائی امن، سلامتی اور انسانی ہمدردی کے معاملات میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اس مضبوط سیاسی تعلق کو اقتصادی تعاون میں بھی تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس غیر معمولی سیاسی اور برادرانہ تعلق کو اتنی ہی متحرک اقتصادی شراکت داری میں ڈھالا جائے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت جغرافیائی سیاسی مسابقت، تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، سپلائی چینز میں ردوبدل، توانائی کے نئے رجحانات اور تجارت و سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جو باہمی تعاون کرنے والے ممالک کے لیے نئی معاشی راہیں کھول رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اقتصادی سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے سفارت خانوں، تجارتی مشنز، سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اداروں اور کاروباری تنظیموں پر زور دیا کہ وہ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری برادری کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مزید قریبی تعاون کریں۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں جاری معاشی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔

اسحاق ڈار نے ترک سرمایہ کاروں کو توانائی، کان کنی، معدنیات، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، زراعت، لاجسٹکس، سیاحت اور دفاعی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے تجارتی کامیابی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی جدیدکاری اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل جدت، فِن ٹیک، جدید مینوفیکچرنگ اور تحقیقاتی شراکت داری جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں یہی شعبے دونوں معیشتوں کی عالمی مسابقت کا تعین کریں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں، تجارتی معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات ہو رہے ہیں اور عالمی مسابقت کے اصول تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی تبدیلیوں کا صرف ردعمل دینے کے بجائے مستقبل کی تشکیل میں مشترکہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صلاحیت موجود ہے، آئیے اسے پاکستان اور ترکیہ کے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس سے یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ دونوں ممالک خوشحالی، جدت اور علاقائی استحکام پر مبنی مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

Comments

200 حروف