بحری جہاز پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں کمی
- ہفتے کو کل 29 تجارتی جہاز گزرے جبکہ اتوار کو یہ تعداد کم ہو کر صرف 12 رہ گئی
ہفتے کو آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے اور امریکہ ایران حالیہ جھڑپوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمد و رفت سست پڑ گئی ہے۔
بحری ٹریکنگ فرم کیپلر کے مطابق ہفتے کو 29 اور اتوار کو محض 12 تجارتی جہاز یہاں سے گزرے۔ یہ تعداد گزشتہ بدھ کے 70 جہازوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جب 15 جون کے عبوری امن معاہدے کے بعد ٹریفک عروج پر تھی۔
ایرانی انتباہ کے باوجود جہازوں نے عمانی حدود میں واقع جنوبی راہداری کا استعمال جاری رکھا، تاہم بعد میں یہ سلسلہ سست ہو گیا۔ دوسری جانب خلیج سے محصور ملاحوں کے انخلا کا اقوامِ متحدہ کا آپریشن بھی جمعرات کو عمان کے قریب جہاز پر حملے کے بعد معطل ہو چکا ہے۔ اتوار کو امریکی بحریہ کی نگرانی میں 5 جہاز خلیج میں داخل ہوئے، جبکہ واپسی کا سفر کسی نے نہیں کیا۔ ادھر ایران اور عمان نے آبنائے کے انتظام پر مشاورت کی ہے، جبکہ واشنگٹن نے اس بین الاقوامی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی ٹرانزٹ فیس ماننے سے انکار کر دیا ہے۔


Comments