قیمتوں کا تعین شفاف، کسی شعبے کو ترجیح نہیں دی جارہی، وزیر پٹرولیم
- بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچانے کے لیے پُرعزم، علی پرویز ملک
وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے ہفتے کو کہا ہے کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ایندھن کی قیمتوں کے تعین میں کسی مخصوص شعبے کو ترجیح دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی ایک شعبے کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں ہفتے کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بین الاقوامی بینچ مارک قیمتیں شیئر کیں جن سے عالمی سطح پر ریفائنڈ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ 22 سے 26 جون کے دوران پٹرول کی قیمت 90.36 ڈالر سے 98.35 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 104.79 ڈالر سے 109.09 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ ہوتا رہا۔
علی پرویز نے لکھا کہ براہ کرم اس ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نہ تو کسی شعبے کی حمایت کررہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صارفین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پرویز ملک نے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اب تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لٹر اور پٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لٹر تک کمی کرچکے ہیں۔


Comments