برینٹ کروڈ میں ہفتہ وار 8 فیصد کمی کا امکان
- امریکی وفاقی تعطیل کے باعث تجارتی حجم نسبتاً کم رہا
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تاہم یہ ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد کمی کے رجحان پر برقرار رہی۔ یہ صورتحال اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی کے باوجود سامنے آئی جب کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے استعمال پر شرائط عائد کیے جانے نے مارکیٹ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
دوپہر 1:30 بجے تک برینٹ کروڈ آئل کے سودے 66 سینٹ (0.53 فیصد) اضافے کے ساتھ 80.38 ڈالر فی بیرل پر ہو رہے تھے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ آئل 94 سینٹ (1.23 فیصد) اضافے کے ساتھ 77.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
امریکی وفاقی تعطیل کے باعث تجارتی حجم نسبتاً کم رہا۔ دوسری جانب خلیجی پیداواری ممالک اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد برآمدات میں اضافے کی تیاری کر رہے تھے جس کا آغاز جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے ہوا۔
میرین ٹریفک کے اعدادوشمار کے مطابق جمعہ کو کم از کم چار ٹینکرز جو خام تیل، تیل کی مصنوعات اور ایل پی جی لے جا رہے تھے آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے اور عراقی خلیجی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہوئے، تاہم ان سرگرمیوں میں تیزی کے باوجود ایران نے شپنگ پر سخت کنٹرول کا اشارہ دیا اور سرکاری ٹی وی کے مطابق بحری جہازوں کو اپنی نقل و حمل پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔
بحری صنعت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گردش کرنے والی ایک غیر تاریخ شدہ ایڈوائزری جسے رائٹرز نے دیکھا ہے کے مطابق ایران کی فارسی گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ کسی بھی جہاز کو پی جی ایس اے کی جانب سے جاری کردہ درست اجازت نامے کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کموڈٹی کنٹیکسٹ نیوز لیٹر کے بانی روری جانسٹن کے مطابق آبنائے ہرمز کے استعمال سے متعلق ایران کی شرائط کے بارے میں خدشات نے جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
جانسٹن نے کہا کہ مارکیٹ ایک واضح معاہدے اور اس پر بلا تعطل عمل درآمد کی توقع کر رہی تھی تاہم بظاہر اب تک ایسی صورتحال دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
جمعہ کو اضافے کے باوجود برینٹ کروڈ کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد کمی کے رجحان پر رہیں جو امریکہ-ایران معاہدے کے بعد جنگ کے خاتمے سے متعلق سپلائی خدشات میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔


Comments