وزیراعظم کی گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت
- ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھے گی لیکن ارکان حکومت سازی کے لیے پی پی پی کو ووٹ دیں گے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت دی ہے، کیونکہ پارٹی حالیہ انتخابات میں خطے کی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی حمایت کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ان کے منتخب اراکین حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ جمہوری روایات اور اقدار کو مقدم رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ عزت و احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے۔
وزیراعظم کا یہ بیان پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے تحفظات کے باعث بجٹ سیشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ بعد ازاں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ان سے مختصر ملاقات کی اور انہیں بجٹ کے عمل میں حصہ لینے پر آمادہ کیا۔
آج نیوز کی جانب سے نقل کیے گئے ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف مینڈیٹ چوری کیا جائے اور دوسری طرف ہم تالیاں بجاتے رہیں۔
ایک روز قبل گلگت میں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی ہوا تھا۔
اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے ممکنہ فارمولوں، سیاسی تعاون، باہمی مشاورت اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پی پی پی کے وفد کا مؤقف تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پارٹی کو خطے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بنا کر واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ وفد نے کہا کہ حکومت سازی سے متعلق تمام فیصلے جمہوری اصولوں، سیاسی مشاورت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 33 رکنی اسمبلی میں براہ راست منتخب ہونے والی 24 نشستوں میں سے پی پی پی نے 10 نشستیں حاصل کی ہیں، جس سے وہ اپنے حریفوں سے آگے تو ہے لیکن قطعی اکثریت سے اب بھی دور ہے۔
برسرِاقتدار مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، آزاد امیدواروں نے 7 نشستیں جیتیں (جن میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ دو امیدوار بھی شامل ہیں)، جبکہ مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے ایک نشست حاصل کی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے پولنگ اتوار کو ہوئی تھی جو سخت سیکیورٹی میں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ رات بھر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رہا جس کے بعد پیر کی صبح سے غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہوئے۔
اس اسمبلی میں 24 جنرل نشستیں ہیں، جبکہ 9 اضافی مخصوص نشستیں ہیں (جن میں 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز کے لیے ہیں) جو پارٹیوں کی کارکردگی کے تناسب سے الاٹ کی جائیں گی۔
پی پی پی کی فتوحات زیادہ تر بلتستان اور مخصوص اہم اضلاع تک محدود رہیں، جن میں سب سے نمایاں کامیابی جی بی اے-12 (شگر) میں ہوئی، جہاں عمران ندیم نے آزاد اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو شکست دی۔ پارٹی نے گلگت، نگر، اسکردو، روندو، کھرمنگ، داریل اور غذر کے حلقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔


Comments