جولائی تا مارچ بجٹ خسارہ 856.4 ارب روپے تک پہنچ گیا
- مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 541.9 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے مساوی سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا
مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالیاتی صورتحال نمایاں طور پر بگڑ گئی اور مجموعی بجٹ خسارہ بڑھ کر 856.4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 541.9 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے مساوی سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم جولائی تا مارچ کے دوران صورتحال خسارے میں تبدیل ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں پرائمری بیلنس 4,091 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کے 3.2 فیصد کے برابر رہا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عرصے میں 9,306 ارب روپے محصولات جمع کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔
وزارت خزانہ کے اعدادوشمار میں زرعی آمدن ٹیکس کی وصولیوں کی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں، حالانکہ یہ ٹیکس آئی ایم ایف پروگرام کی شرط کے تحت جنوری 2025 سے نافذ کیا گیا تھا۔ صوبائی سطح پر خدمات پر سیلز ٹیکس سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ رہا، جہاں پنجاب نے 244.2 ارب روپے وصول کر کے سندھ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سندھ نے 241.2 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 34.7 ارب روپے جبکہ بلوچستان نے 16 ارب روپے جمع کیے۔
غیر ٹیکس آمدنی 4,632 ارب روپے رہی جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا منافع 2,428 ارب روپے کے ساتھ سب سے بڑا حصہ تھا۔ پٹرولیم لیوی سے 1,205 ارب روپے، کاربن لیوی سے 37.2 ارب روپے اور نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی سے 17.7 ارب روپے حاصل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی اخراجات 16,099 ارب روپے رہے، جن میں سے 14,267 ارب روپے جاری اخراجات پر خرچ ہوئے۔ مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 4,947 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی 660.3 ارب روپے رہی۔ دفاعی اخراجات 1,689 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ پنشن کی مد میں 753.6 ارب روپے خرچ ہوئے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت صرف 322.9 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو بجٹ تخمینے کا 32.3 فیصد بنتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی ٹیکس وصولیاں 861 ارب روپے رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق مجموعی شماریاتی فرق منفی 443.5 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس میں اضافہ، رپورٹنگ میں تاخیر اور مختلف اداروں کے درمیان حسابی ایڈجسٹمنٹس کو قرار دیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments